تعمیر حیات
Urdu book, p. 14
By Maulana Wahiduddin Khan
کتابوں کو دیکھیے اور اس کے اوپر تبصرہ کیجیے۔ مسیحی دوست کا اندازہ تھا کہ سوامی جی یہ منظر دیکھ کر بگڑ جائیں گے کہ ان کے مذہب کی کتاب کو سب سے نیچے رکھ دیا گیا ہے اور دوسرے مذہب کی کتابوں کو اس کے اوپر۔ کیوں کہ اس میں بظاہر ان کے اپنے مذہب کی توہین ہے اور دوسرے مذہبوں کی تعظیم۔ مگر سوامی جی اس کو دیکھ کر غصہ نہیں ہوئے۔ انھوں نے اس معاملے کو ٹھنڈے طریقہ سے لیا۔ اس بنا پر وہ اس قابل ہو گئے کہ وہ ایک منفی واقعہ کا مثبت جواب دے سکیں۔ وہ کتابوں کی طرف دیکھ کر مسکرائے اور کہا کہ بنیاد تو بہت اچھی ہے: The foundation is really good. یہ واقعہ مزید اس بات کی مثال ہے کہ آدمی اگر غصہ نہ ہو اور اعتدال پر قائم رہے تو وہ اپنے نہیں کو ہے بنا سکتا ہے، وہ ایک غیر موافق واقعے کو ایک موافق واقعہ میں تبدیل کر سکتا ہے۔ ان چند مثالوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ سوچنے کے عمل کی کتنی زیادہ اہمیت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سوچ ہی کی سطح پر انسان کی ہر کامیابی اور ناکامی کا فیصلہ ہوتا ہے۔ اعلیٰ زندگی نام ہے اعلیٰ سوچ کا۔ اگر آپ زندگی میں کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو اپنے اندر صحیح سوچ پیدا کیجیے۔ صحیح سوچ ہی کا دوسرا نام صحیح عمل ہے، اور صحیح عمل کا دوسرا نام کامیابی۔ ساتواں نکتہ سوچ کی غلطی کی ایک مثال وہ ہے جس کو ثنائی طرز فکر (dichotomous thinking) کہا جا سکتا ہے یعنی کسی معاملے میں صرف دو صورت کے دائرے میں سوچنا، جب کہ وہاں تیسری زیادہ بہتر صورت بھی موجود ہو۔ مثلاً ایک شخص آپ کے خلاف بدزبانی کرے۔ وہ آپ کے وقار کو مجروح کرے۔ ایسی صورت حال میں لوگ عام طور پر برداشت نہیں کر پاتے، وہ غصہ ہو کر فریق ثانی سے لڑ جاتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ برداشت کرنا بزدلی ہے اور اس کے مقابلے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader