تین منٹ
Urdu book, p. 140
By Maulana Wahiduddin Khan
مسجد میں تراویح کی نماز پڑھ رہے تھے ، سٹرک پر شور و غل کی آواز آئی۔ ہندوؤں کا ایک جلوس مسجد سے ملی ہوئی سڑک سے گزر رہا تھا۔ مسجد کے سامنے پہنچ کر وہ لوگ ٹھہر گئے اور زور زور سے باجا بجانے لگے۔ تراویح میں ہر دو رکعت پر سلام پھیرا جاتا ہے۔ چنانچہ امام صاحب نے جب دو رکعت پوری کر کے السلام علیکم ورحمۃ اللہ کہا تو اچانک نمازی غصہ ہو گئے۔ کچھ لوگ اٹھنے لگے کہ جا کر جلوس والوں سے کہیں کہ مسجد ہے، یہاں شور نہ کرو، آگے جاؤ۔ سید امتیاز الدین صاحب نے کہا کہ کہ چند منٹ بیٹھ کر آپ ذکر کر لیجیے، یہ لوگ اپنے آپ یہاں سے چلے جائیں گے۔ چنانچہ تمام نمازی خاموش ہو کر بیٹھ گئے۔ 20 مارچ 1994 کی ملاقات میں سید تمیز الدین صاحب نے بتایا کہ مشکل سے تین منٹ گزرے ہوں گے کہ آواز کم ہونے لگی اور تھوڑی دیر میں بالکل ختم ہو گئی۔ جلوس صرف تین منٹ مسجد کے سامنے ٹھہرا اور اس کے بعد وہ اپنے آپ ہی آگے چلا گیا۔ اس کے برعکس اگر کچھ مسلمان سڑک پر آ کر روک ٹوک کرتے تو وہ لوگ ضد میں پڑ جاتے۔ اب دونوں طرف سے اصرار بڑھتا۔ یہاں تک کہ جلوس کا مسئلہ دونوں کے لیے وقار کا مسئلہ بن جاتا۔ اس کے بعد معاملہ اور آگے بڑھتا اور آخر کار وہ چیز ظہور میں آ جاتی جس کو فرقہ وارانہ فساد کہا جاتا ہے۔ ایک طرف مسجد کی تراویح ادھوری رہ جاتی۔ دوسری طرف بستی آگ اور خون کے طوفان میں نہا اٹھتی۔ اسی قسم کا برعکس واقعہ 1980 میں مراد آباد میں پیش آ چکا ہے۔ رمضان کے مہینہ میں غیر مسلموں کا جلوس مسجد کے سامنے آ گیا اور باجا بجانے لگا۔ مسجد میں جو مسلمان نماز کے لیے جمع تھے وہ ”تین منٹ“ کے صبر پر راضی نہیں ہوئے۔ باہر نکل کر انھوں نے جلوس کو روکنا شروع کیا۔ اس کا انجام مراد آباد کو بھیا تک فساد کی صورت میں برداشت کرنا پڑا۔ اس سے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader