Urdu book · تعمیر حیات

تعمیر حیات

Urdu book, p. 141

By Maulana Wahiduddin Khan

اندازہ ہوتا ہے کہ امن اور فساد کے درمیان صرف تین منٹ کا فاصلہ ہے۔ اگر آپ تین منٹ کے اشتعال کو برداشت کر لیں تو ہر طرف امن ہی امن ہوگا ، اور اگر آپ تین منٹ کے اشتعال کو برداشت نہ کریں تو ہر طرف فساد ہی فساد ۔ دو خبریں آپ 16 جون 1993 کا ہندستان ٹائمز یا ٹائمس آف انڈیا دیکھیں تو آپ کو بالکل مختلف قسم کی خبریں پڑھنے کو ملیں گی ۔ ایک طرف دونوں میں یہ خبر ہے کہ دہلی کا ایک تاجر کرشن کمار (45 سال) پنجاب نیشنل بنک ( کیشو پورم ) سے چار لاکھ پینتالیس ہزار روپیہ لے کر واپس آرہا تھا کہ راستہ میں 12 بجے دن کو چار نو جوان سفید ماروتی کار پر آئے ۔ انھوں نے تاجر کے اسکوٹر کو روکا ۔ ریوالور سے گولیاں چلا کر اسے گرا دیا اور اس کا بریف کیس لے کر فرار ہوگئے ۔ دوسری طرف دونوں ہی اخباروں میں ایک اور خبر ہے ۔ دہلی کا ایک ہیڈ کانسٹیبل پریم پال ( قرول باغ) رات کو گشت کر رہا تھا۔ اس کو سور یہ کرن ہوٹل کے پاس ایک بریف کیس پڑا ہوا ملا۔ اس نے کھولا تو اس کے اندر دوسرے کاغذات کے علاوہ 97 ہزار 4 سو روپیہ نقد رکھا ہوا تھا۔ اس نے فوراً بریف کیس کو بند کیا اور اس کو لا کر اسی طرح تھانہ میں جمع کر دیا۔ تھانہ کے ذمہ دار اب بریف کیس کے اصل مالک کو تلاش کر رہے ہیں ۔ یہ ایک علامتی خبر ہے جو بتاتی ہے کہ سماج میں ہمیشہ دونوں قسم کے لوگ ہوتے ہیں ۔ اچھے بھی اور برے بھی ۔ اس لیے کسی سماج کے بارے میں رائے قائم کرتے ہوئے آدمی کو بہت زیادہ محتاط ہونا چاہیے ۔ اس کو نہ ایک طرف پوری طرح جھک جانا چاہیے اور نہ دوسری طرف ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page