Urdu book · تعمیر حیات

تعمیر حیات

Urdu book, p. 142

By Maulana Wahiduddin Khan

مذکورہ خبروں میں اگر کوئی شخص ایسا کرے کہ وہ صرف کرشن کمار کے واقعے کو لے لے اور اس کو عام بنا کر یہ کہے کہ ہندوستان کے لوگ تو سب کے سب قاتل اور لٹیرے ہیں۔ تو اس کی یہ رائے درست نہ ہوگی۔ اسی طرح کوئی شخص پریم لال کے واقعے کو لے اور اس کو عمومی صورت دے کر یہ کہنے لگے کہ ہندوستان کے تمام آدمی انتہائی دیانتدار ہیں تو یہ بات بھی واقعے کے مطابق نہ ہوگی۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ ہر سماج میں دونوں ہی طرح کے لوگ پائے جاتے ہیں۔ ہمیں اس دنیا میں اس طرح رہنا ہے جیسے کہ ہم ایک ایسے راستہ میں چل رہے ہوں جس میں کانٹے بھی ہوں اور اسی کے ساتھ پھول بھی۔ ایسے راستہ کے مسافر کے لیے کامیاب سفر کی تدبیر صرف ایک ہے۔ وہ کانٹوں سے اپنا دامن بچائے ، اور پھولوں سے محظوظ ہوتے ہوئے اپنی منزل کی طرف بڑھتا رہے۔ تعمیری طریقہ سید منصور آغا دہلی میں رہتے ہیں۔ ان کا وطن میرٹھ ہے (پیدائش 1945)۔ یکم جولائی 1996 کی ملاقات میں انھوں نے اپنا ایک تجربہ بتایا جس میں ایک قیمتی سبق موجود ہے۔ 1963-64 میں وہ میرٹھ کالج کے طالب علم تھے۔ ان کے پولیٹکل سائنس کے استاد مسٹر کے سی گپتا تھے۔ ہندوستان کی سیاسی تاریخ پر جب انھوں نے لکچر دینا شروع کیا تو یہ آغا صاحب کے لیے بہت پریشان کن ثابت ہوا۔ یہی حال ان کے ساتھی مستعین الرحمن صاحب کا تھا۔ مسٹر گپتا نے اپنے لکچر میں تقسیم اور سیاسی تاریخ کو اس طرح بتایا جس میں سارا الزام مسلمانوں پر آتا تھا۔ دونوں طالب علموں نے آپس میں مشورہ کیا کہ کیا کرنا چاہیے۔ آخر میں انھوں نے طے کیا کہ غصہ ہونے یا اشتعل ہونے سے کوئی فائدہ نہیں۔ ہم لوگوں کو اپنے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page