تعمیر حیات
Urdu book, p. 143
By Maulana Wahiduddin Khan
آپ کو اس کے لیے تیار کرنا چاہیے کہ ہم مسٹر گپتا کی علمی کاٹ کر سکیں۔ طے شدہ پروگرام کے مطابق، اب دونوں اپنا خالی وقت لائبریری میں گزارنے لگے۔ وہ ہندوستان کی سیاسی تاریخ اور تقسیم ہند کے تاریخی ریکارڈ کا مطالعہ کرتے۔ اس طرح وہ پوری ذہنی تیاری کے ساتھ کلاس میں جانے لگے۔ انھوں نے یہ کیا کہ جب گپتا صاحب تاریخ کی کوئی غلط تعبیر پیش کرتے تو آغا صاحب اور ان کے ساتھی فوراً انھیں ٹوکتے اور پورے حوالہ کے ساتھ کہتے کہ آپ ایسا کیوں کرتے ہیں۔ فلاں کتاب میں تو یہ بات اس طرح لکھی ہوئی ہے ۔ اور فلاں مورخ نے تو اس کو اس طرح بیان کیا ہے۔ کچھ دن ایسا چلتا رہا۔ آخر کار ایک دن مسٹر گپتا نے دونوں طالب علموں کو اپنے کمرہ میں بلایا۔ انھوں نے کہا کہ میرے دل میں تم لوگوں کی بہت قدر ہے۔ تم لوگوں نے میری تصحیح کر دی اور مجھے روشنی دکھائی۔ اس کے بعد مسٹر گپتا کے لیکچر کا انداز بالکل بدل گیا۔ وہ آخر وقت تک دونوں مسلم طالب علموں کے ساتھ نہایت عزت کا سلوک کرتے رہے۔ اس طرح کے کسی مسئلہ کے حل کا یہی تعمیری طریقہ ہے۔ اور مسائل ہمیشہ تعمیری طریقہ سے حل ہوتے ہیں، نہ کہ تخریبی طریقہ سے۔ اعزاز یا ذمہ داری وزیر اعظم نرسمہا راؤ نے حال میں مرکزی کیبنٹ میں اضافہ کیا ہے۔ جو نئے وزیر لیے گئے ہیں ان میں سے ایک 29 سالہ خاتون سیلجا چودھری (Selja Chaudhary) ہیں۔ وہ حکومت ہند کی وزارت تعلیم میں اسٹیٹ منسٹر مقرر کی گئی ہیں۔ ایک انٹرویو میں انھوں نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ جب میں نے ٹیلی فون کے دوسری طرف سے کیبنٹ سیکریٹری کی آواز سنی جس میں یہ خبر دی گئی تھی کہ مجھے وزارت کے عہدہ پر مقرر کیا گیا ہے تو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader