اعزاز یا ذمہ داری
Urdu book, p. 144
By Maulana Wahiduddin Khan
مجھے یقین نہیں آیا کہ یہ صحیح ہے۔ بظاہر میں اچھل تو نہیں پڑی مگر واقعہ یہ ہے کہ مجھے اس خبر سے بے حد خوشی ہوئی: یہ ایک علامتی واقعہ ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کیا وجہ ہے کہ ہمارے حکمران نصف صدی گزرنے کے بعد بھی ملک کو امن اور ترقی کا ملک نہ بنا سکے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آزادی کے بعد جن لوگوں کو اقتدار کا منصب ملا ان کی نظر منصب کے اعزاز پر چلی گئی، نہ کہ منصب کی ذمہ داریوں پر۔ اور جن لوگوں کا یہ حال ہو وہ کبھی ملک میں ترقی اور خوش حالی کا دور نہیں لاسکتے۔ جن لوگوں کی نظر منصب کے اعزاز پر ہو وہ منصب کو صرف اپنی ترقی کا ذریعہ بنائیں گے۔ اپنی ذات کو نمایاں کرنے کے سوا کسی اور چیز سے انھیں کوئی حقیقی دل چسپی نہیں ہوسکتی۔ وہ اپنے ذاتی فائدہ کی خاطر پورے ملک کو قربان کر سکتے ہیں۔ وہ اپنی ذات کے لیے پوری قوم کا سودا کر سکتے ہیں۔ اس کے برعکس، جس آدمی کی نظر منصب کی ذمہ داریوں پر ہو، وہ جب کسی منصب کو پاتا ہے تو وہ کانپ اٹھتا ہے۔ اس کے لیے منصب ایک ایسا بوجھ بن جاتا ہے جس کے نیچے اس کی شخصیت دب کر رہ جائے۔ اول الذکر قہقہوں کے ساتھ منصب کا استقبال کرتا ہے تو ثانی الذکر غم کے آنسوؤں کے ساتھ۔ جو لوگ منصب کو ذمہ داری سمجھیں ان کے لیے منصب کو پانا اپنی زندگی کی ویرانی کے ہم معنی بن جاتا ہے۔ مگر یہی وہ لوگ ہیں جو ملک کو ایک سرسبز و شاداب باغ میں تبدیل کرنے کا کارنامہ انجام دیتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader