ڈائری ساتھ رکھیے
Urdu book, p. 145
By Maulana Wahiduddin Khan
ڈائری ساتھ رکھیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سفرِ ہجرت کے واقعات میں سے ایک واقعہ وہ ہے جو سراقہ بن مالک بن جعشم سے تعلق رکھتا ہے ۔ یہ واقعہ ابن ہشام نے کسی قدر تفصیل کے ساتھ نقل کیا ہے۔ اس واقعے کا خلاصہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ سے نکل کر مدینہ کے لیے روانہ ہوگئے تو قریش مکہ نے اعلان کیا کہ جو آدمی آپ کو پکڑ کر لائے گا اس کو ایک سوا اونٹ انعام دیا جائے گا۔ سراقہ انعام کے شوق میں گھوڑے پر سوار ہو کر آپ کے پیچھے دوڑا۔ یہاں تک کہ وہ آپ کے قریب پہنچ گیا۔ مگر عین اس وقت اس کے گھوڑے نے ٹھوکر کھائی اور وہ زمین پر گر پڑا۔ اس واقعے سے سراقہ بدل ہو گیا۔ اس نے اپنے دل میں کہا کہ آپ مجھ سے محفوظ کر دیے گئے ہیں اور یہ بات بالکل واضح ہے: فَعَرَفْتُ حِينَ رَأَيْتُ ذَلِكَ أَنَّهُ قَدْ مُنِعَ مِنِّي وَأَنَّهُ ظَاهِرُ (سیرت ابن ہشام) اس کے بعد سراقہ نے اپنا ارادہ بدل دیا۔ رسول اللہ اور حضرت ابو بکر کو آواز دے کر اس نے کہا کہ اے لوگو، میں سراقہ بن جعشم ہوں۔ مجھے اتنی مہلت دو کہ میں تم سے بات کروں۔ خدا کی قسم، میں تم سے کوئی دغا نہیں کروں گا اور نہ میری جانب سے تمہیں کوئی ایسی بات پہنچے گی جو تم پسند نہ کرو۔ رسول اللہ نے حضرت ابو بکر سے کہا کہ اس سے پوچھو کہ وہ ہم سے کیا چاہتا ہے۔ سراقہ نے پوچھنے پر جواب دیا کہ مجھے آپ ایک تحریر لکھ دیں جو میرے پاس ایک نشانی کے طور پر رہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: أُكْتُبْ لَهُ يَا أَبَا بَكْرٍ (سیرت ابن ہشام ، جلد 2، صفحہ 103)۔ یعنی، اے ابو بکر، اس کو لکھ کر دے دو۔ اور سراقہ کا بیان ہے کہ اس کے بعد ابو بکر نے کسی ہڈی یا کاغذ یا ٹھیکری پر ایک تحریر لکھی اور میری طرف اس کو پھینک دیا۔ میں نے اس کو لے لیا اور اس کو اپنے ترکش میں رکھ کر واپس آ گیا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader