تعمیر حیات
Urdu book, p. 147
By Maulana Wahiduddin Khan
خود بناتے ہیں۔ اس دنیا میں ہر آدمی وہی ترقی حاصل کر سکتا ہے جو ترقی کسی دوسرے نے حاصل کی ہے۔ شرط صرف یہ ہے کہ اپنی مطلوبہ کامیابی کے لیے اس کے مطابق ضروری عمل کیا جائے۔ وہ عمل کیا ہے۔ وہ عمل ہے۔ مقصد کا واضح تصور، اس کو پانے کا عزم صمیم، اپنی پوری صلاحیت کو اس میں لگا دینا، لائق افراد کے ذریعہ متحدہ کوشش کرنا، ہر چیلنج سے نیا حوصلہ لینا، اپنی معلومات میں برابر اضافہ کرتے رہنا، یہی اس دنیا میں کامیابی کے اصول ہیں۔ اور جو آدمی ان اصولوں کو بھر پور طور پر اپنا لے اس کے لیے ترقی اتنا ہی زیادہ یقینی بن جاتی ہے جتنا کہ شام کے بعد اگلی صبح کا طلوع ہونا۔ مستقبل کو جانیے جان بیٹ (John Bate) سترھویں صدی عیسوی کا ایک برٹش مرچنٹ تھا۔ 1606 کا واقعہ ہے کہ اس نے باہر سے کچھ کشمش (Currants) امپورٹ کی۔ ملک میں داخل ہونے کے بعد جب اس کے سامان پر ٹیکس لگایا گیا تو اس نے ٹیکس کی رقم دینے سے انکار کر دیا۔ اس نے کہا کہ یہ ایک شاہی ٹیکس ہے جس کو کینگ جیمز فرسٹ (1625-1566) نے خود اپنے اختیار سے جاری کیا ہے۔ پارلیمنٹ نے اس کے حق میں قانون نہیں بنایا ہے۔ انگلستان کے حکمراں جیمز فرسٹ نے شاہی مالیات کے مسائل کو حل کرنے کے لیے اس قسم کے کچھ ٹیکس نافذ کیے تھے۔ عدالت زیریں کے جج نے کنگ کے مطلق اختیار (absolute power) کا حوالہ دیتے ہوئے اس ٹیکس کو جائز قرار دے دیا۔ جان بیٹ اس کے بعد عدالت عالیہ میں گیا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader