تعمیر حیات
Urdu book, p. 15
By Maulana Wahiduddin Khan
میں لڑ جانا بہادرانہ دفاع۔ اب چونکہ بزدلی کے مقابلے میں بہادری زیادہ بہتر چیز معلوم ہوتی ہے اس لیے وہ اس روش کو چھوڑ دیتے ہیں جس کو وہ بزدلی سمجھتے ہیں اور اس روش کو اختیار کر لیتے ہیں جس کے متعلق ان کا خیال ہوتا ہے کہ وہ ایک بہادرانہ روش ہے۔ مگر یہ سوچ کی غلطی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مذکورہ صورت حال میں ایک تیسری ممکن روش بھی ہے، اور وہ اس کو نظر انداز کر دیتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی مشتعل ہو کر لڑنے میں اپنا وقت ضائع نہ کرے بلکہ وہ اپنے آپ کو مثبت عمل پر قائم رکھے ۔ یہ تیسری روش عین وہی چیز ہے جس کو ایک مشہور مقولہ میں اس طرح بیان کیا گیا ہے — کتے بھونکتے رہتے ہیں اور ہاتھی چلتا رہتا ہے۔ محض ایک اخلاقی بات نہیں، بلکہ یہ زندگی کی ایک اہم حقیقت ہے۔ یہ دنیا طرح طرح کے لوگوں سے بھری ہوئی ہے۔ اس بنا پر اس دنیا میں بار بار نا خوشگوار تجربے پیش آتے ہیں ۔ ایسی حالت میں آدمی اگر ہر ناپسندیدہ بات پر بھڑکتا رہے، وہ ہر اشتعال انگیزی پر مشتعل ہو جائے تو وہ کوئی بڑا کام نہیں کر سکتا۔ وہ اپنے وقت اور اپنی صلاحیت کو دوسروں کے خلاف کارروائی میں ضائع کرتا رہے گا۔ جب کہ صحیح بات یہ ہے کہ اپنی قوت اور اپنی صلاحیت کو مکمل طور پر صرف اپنی مثبت تعمیر کے لیے استعمال کیا جائے۔ اس دنیا میں آدمی کے پاس وقت بہت کم ہے اس کے ساتھ اس کے وسائل بھی بہت محدود ہیں ۔ ایسی حالت میں کوئی بھی شخص اس کا تحَمّل نہیں کر سکتا کہ وہ دوسروں کو سبق سکھانے یا ان سے بدلہ لینے کے لیے ان کے پیچھے دوڑتا رہے ۔ ایسی روش کی قیمت آدمی کو یہ دینی پڑتی ہے کہ اس کی اپنی تعمیر و ترقی کا عمل رک جاتا ہے۔ آٹھواں نکتہ آدمی پیدائشی طور پر معیار پسند (idealist) ہے۔ وہ ہمیشہ اعلیٰ معیار کی تلاش میں رہتا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader