تعمیر حیات
Urdu book, p. 16
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے۔ وہ ہر معاملے میں خیرِ برتر کو حاصل کرنا چاہتا ہے۔ اس قسم کی معیار پسندی نظری طور پر بہت اچھی معلوم ہوتی ہے مگر عملی طور پر وہ صرف تباہ کن ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ کوئی آدمی اس دنیا میں اکیلا نہیں ہے۔ اس دنیا میں ہر آدمی کو دوسرے لوگوں کے ساتھ زندگی گزارنا ہوتا ہے۔ ہر آدمی کا اپنا انٹرسٹ ہے۔ ہر آدمی کی اپنی مصلحتیں ہیں۔ ہر آدمی فائدہ اور نقصان کا اپنا ذاتی نظریہ رکھتا ہے۔ اس صورت حال نے موجودہ دنیا میں ہر ایک کے لیے معیار طلبی کو ناقابلِ حصول بنا دیا ہے۔ اس بنا پر اس دنیا میں قابلِ عمل صورت صرف ایک ہے، اور وہ دوسروں کے ساتھ ہم آہنگی (adjustment) ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں آدمی کے لیے جو انتخاب (choice) ہے، وہ خیر اور شر کے درمیان نہیں ہے، بلکہ وہ چھوٹی برائی (lesser evil) اور بڑی برائی ( greater evil) کے درمیان ہے۔ اب کسی انسان کے لیے معقول روش یا صحیح طرزِ فکر یہ ہے کہ جب کوئی معاملہ پیش آئے تو وہ بڑی برائی کو چھوڑ دے اور چھوٹی برائی پر راضی ہو جائے۔ رواں نکتہ فنِ تفکیر (art of thinking) کے سلسلے میں ایک اہم پہلو ہے ــ ایک چیز اور دوسری چیز کے درمیان فرق کو جاننا۔ دنیا میں بہت سی چیزیں ایسی ہیں جو بظاہر مشابہ مگر حقیقتاً وہ ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہیں۔ اس فرق کو نہ سمجھنے کی وجہ سے بعض اوقات آدمی کو بہت زیادہ نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ مثلاً ایک شخص سروس کرتا ہے، اور دوسرا آدمی تاجر ہے۔ سروس کرنے والے آدمی کو مہینہ پورا ہونے پر جو رقم ملتی ہے وہ پوری کی پوری اس کی اپنی آمدنی ہوتی ہے۔ اگر وہ ملی ہوئی پوری رقم خرچ کر دے تو اس سے اس کی سروس کا کوئی نقصان نہ ہوگا۔ اس کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader