Urdu book · تعمیر حیات

تعمیر حیات

Urdu book, p. 164

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ غیر ضروری بحث ثنائی طرز فکر (dichotomous thinking) کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ یہ لوگ صرف دو باتوں کے درمیان سوچ پاتے ہیں۔ یا مذہب مع سیاست یا مذہب بغیر سیاست۔ اسی لیے وہ ایک دوسرے کو اپنا مخالف سمجھ کر ان سے لڑنے لگتے ہیں۔ حالاں کہ یہاں ایک تیسرا نقطہ نظر بھی ہے۔ اور وہ تدریج سے تعلق رکھتا ہے۔ یعنی رائج الوقت نظام عملی طور پر مذہب کو جس دائرے میں کام کا موقع دے رہا ہو اس دائرے کو بلا بحث قبول کر لینا اور اس کو نقطہ آغاز سمجھ کر اپنا کام فکری انداز میں شروع کر دینا۔ اس نزاع کا آسان حل یہ ہے کہ جس چیز کو سیکولر طبقہ اصولی تقسیم کے طور پر پیش کر رہا ہے اس کو اسلامی طبقہ عملی تقسیم کے طور پر مان لے ۔ اس عملی بندوبست کے باوجود اسلامی طبقہ اپنے فکر کی پر امن تبلیغ بدستور جاری رکھ سکتا ہے جس کی موجودہ زمانے میں اسے پوری آزادی حاصل ہے۔ ایسی حالت میں پریشان ہونے کی کیا ضرورت ۔ شعور نہ کہ نظام موجودہ زمانے میں جاپان کی غیر معمولی ترقی ایک تسلیم شدہ حقیقت بن چکی ہے۔ جاپان نے یہ ترقی احتجاجی مظاہروں کے ذریعہ حاصل نہیں کی ۔ بلکہ اپنے افراد کے اندر شعور پیدا کر کے حاصل کی ہے ۔ جاپانی امور کے ایک ماہر رابرٹ ہیزز (Robert Hayes) نے لکھا ہے کہ جاپان نے اپنے افراد کے لیے معیار کو ایک طرز فکر (Way of thinking) بنا دیا۔ اس سلسلے میں انھوں نے یہ الفاظ لکھے ہیں : You don't get quality into a product by inspection, you have to build it in. معیاری پیدا وار کو آپ انسپکٹروں کی جانچ کے ذریعہ حاصل نہیں کر سکتے ۔ آپ کو ہر ایک کارکن کے اندر اس کا احساس پیدا کرنا ہوگا (ہندوستان ٹائمس 28 دسمبر 1986، صفحہ 9)۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page