Urdu book · تعمیر حیات

تعمیر حیات

Urdu book, p. 165

By Maulana Wahiduddin Khan

امریکہ نے دوسری عالمی جنگ میں اور اس کے بعد جاپان کے ساتھ جو کچھ کیا تھا، اس کے مطابق امریکہ جاپان کے لیے دشمن نمبر ایک کی حیثیت رکھتا تھا۔ جاپان نے جنگ کے بعد جو اپنی تعمیر نو شروع کی تو پہلا کام یہ کیا کہ اپنے افراد کو منفی طرز فکر سے پاک کیا۔ اس نے نفرت اور انتقام کے احساسات سے اوپر اٹھ کر امریکیوں سے معاملہ کیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جاپان اس سے بچ گیا کہ وہ اپنی طاقت کو غیر ضروری قسم کی منفی کارروائیوں میں صرف کرے ۔ منفی نفسیات سے اوپر اٹھنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس نے خود اپنے دشمن کو اپنی خوراک بنا لیا۔ امریکہ کی بیل لیبارٹریز (Bell Laboratories) نے سب سے پہلے ٹرانسسٹر ایجاد کیا تھا۔ جاپانی اگر امریکہ کے خلاف نفرت کے جذبات اپنے سینہ میں لیے ہوئے ہوتے تو وہ امریکہ سے کچھ سیکھ نہیں سکتے تھے۔ مگر ان کے مثبت طرز فکر کا یہ نتیجہ ہوا کہ انھوں نے فوراً اس ایجاد کو پکڑ لیا۔ قبل اس کے کہ بیل لیبارٹریز ٹرانسسٹر بنائے جاپانیوں نے بہت بڑی مقدار میں ٹرانسسٹر بنا کر عالمی مارکیٹ پر قبضہ کر لیا۔ اسی طرح فیکس کی تکنیک امریکہ میں دریافت ہوئی۔ مگر جاپان نے سب سے پہلے اس کا تجارتی فائدہ حاصل کیا۔ اعلیٰ مقصد ایک عرب ملک کی ٹیم بمبئی آئی اور ایک ہوٹل میں ٹھہری۔ ان کو اپنے ملک کے لیے کچھ کارکنوں کی ضرورت تھی۔ انھوں نے انگریزی اخبارات میں اشتہار چھپوایا۔ اس کو دیکھ کر دہلی کے ایک تعلیم یافتہ نوجوان نے بھی اپنے کاغذات انھیں بھیجے۔ اس کے جواب میں اس کے پاس بمبئی سے انٹرویو کارڈ آ گیا۔ مذکورہ نوجوان رکشہ پر بیٹھ کر اپنے گھر سے ریلوے اسٹیشن کی طرف روانہ ہوا۔ اس کے ہمراہ اس کا ایک ساتھی بھی تھا جو اس کو چھوڑنے کے لیے اسٹیشن تک جا رہا تھا۔ سڑک پر ایک جگہ کچھ جاہل قسم کے لڑکے کھیل رہے تھے۔ رکشہ ان

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page