اعلیٰ مقصد
Urdu book, p. 166
By Maulana Wahiduddin Khan
کے پاس سے گزرا تو ایک لڑکے نے ان کے خلاف برے الفاظ کہے۔ دوسرے نے کنکر پھینک دیا۔ اب نوجوان کے ساتھی کو غصہ آ گیا۔ اس نے چاہا کہ رکشہ روک کر اترے اور لڑکوں کو مارے۔ نوجوان نے اس کا ہاتھ پکڑ کر بٹھا لیا اور کہا: چھوڑو ہمارے پاس اس کا وقت کہاں ہے۔ مذکورہ نوجوان کے سامنے ایک منزل تھی۔ وہ چاہتا تھا کہ وقت پر اسٹیشن پہنچ کر ٹرین پکڑے ۔ بمبئی جا کر انٹرویو دے اور پھر عرب پہنچ کر دس ہزار روپیہ مہینہ کمائے۔ اس مقصد نے اس کی نظر میں لڑکوں کی گالی یا ان کی کنکری کو حقیر بنا دیا۔ وہ ان کو نظر انداز کر کے آگے بڑھ گیا۔ یہی معاملہ زیادہ بڑے پیمانہ پر اہل اسلام کا ہے۔ اہل اسلام وہ لوگ ہیں جو دعوت حق کو اپنا مقصد بنائے ہوئے ہوں۔ دعوت کا اعلیٰ تصور ان کی نظر میں بقیہ تمام چیزوں کو ہیچ کر دیتا ہے ۔ وہ لوگوں کی طرف سے برے الفاظ سنتے ہیں ، ان کی طرف پتھر پھینکے جاتے ہیں۔ مگر وہ ان چیزوں کی پروا نہیں کرتے۔ وہ یہ کہہ کر آگے بڑھ جاتے ہیں کہ ہمارے پاس اس کا وقت کہاں ہے کہ ہم اس قسم کی چھوٹی چیزوں میں الجھیں۔ مذکورہ نوجوان کے سامنے صرف دس ہزار روپیہ مہینہ کی منزل تھی ۔ مگر داعی اور مومن کے سامنے جنت کی منزل ہوتی ہے۔ اس کے سامنے خدا کا یہ وعدہ ہوتا ہے کہ اس کا جو بندہ اس کے پیغام کو انسانوں تک پہنچائے گا اور اس راہ میں ہر قسم کی تکلیف اور دل آزاری کو برداشت کرے گا ، اس کے لیے آخرت میں ابدی جنت ہے ۔ وہ کہہ اٹھتا ہے کہ صبر ہی تو جنت کی قیمت ہے۔ پھر اگر میں لوگوں کی ایذارسانی پر صبر نہ کروں تو آخرت میں مجھے جنت کا داخلہ کس طرح ملے گا۔ اعراض میں دنیا کی کامیابی بھی ہے اور اسی میں آخرت کی کامیابی بھی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader