دومقسم کے آدمی
Urdu book, p. 167
By Maulana Wahiduddin Khan
دو قسم کے آدمی ایک آدمی وہ ہے جو کم بولے اور زیادہ کرے۔ دوسرا آدمی وہ ہے جو زیادہ بولے اور کم کرے۔ پہلی قسم کا آدمی ہی آدمی ہے، دوسری قسم کا انسان آدمی کے بھیں میں غیر آدمی ہے۔ ہندوستان میں ایم جنسی (77-1975) کے زمانے میں فخر الدین علی احمد (1905-1977) صدر جمہوریہ تھے۔ ان کے پاس یوپی کا ایک مسلمان آیا۔ اس نے کہا کہ میرے بھائی کو پولیس نے میسا کے قانون کے تحت گرفتار کر کے جیل میں بند کر دیا ہے، حالاں کہ وہ بالکل بے قصور ہے۔ فخر الدین علی احمد نے بھائی کا نام و پتہ لکھ کر مذکورہ مسلمان کو رخصت کر دیا۔ انھوں نے سمجھا کہ فخر الدین صاحب نے ان کی بات پر کوئی توجہ نہیں دی۔ مگر جب وہ ٹرین سے سفر کر کے اپنے گھر پہنچے تو ان کے بھائی رہا ہو کر گھر واپس آ چکے تھے۔ قصہ یہ تھا کہ مذکورہ مسلمان کو رخصت کرنے کے بعد فخر الدین علی احمد صاحب نے اپنے سکریٹری سے کہا کہ فلاں ضلع کے کلکٹر کو ٹیلیفون کرو اور اس سے کہو کہ اس نام کے ایک صاحب آپ کے یہاں جیل میں ہیں۔ صدر صاحب نے ان کی خیریت پوچھی ہے۔ کلکٹر نے جب یہ سنا تو وہ ڈر گیا۔ وہ سمجھا کہ جس آدمی کو اس نے جیل میں بند کر رکھا ہے، وہ کوئی اہم شخصیت ہے، اس لیے تو صدر صاحب اس کی خیریت پوچھ رہے ہیں۔ چنانچہ فوراً ان کو جیل سے رہا کر دیا۔ دہلی کے ایک صاحب مجھ سے اکثر کہتے تھے کہ انگریزی اخباروں میں میرے تعلقات ہیں۔ میں مسلم نوجوانوں کو انگریزی اخبارات میں جگہ دلا سکتا ہوں۔ مگر مسلمانوں میں شوق ہی نہیں۔ اس کے بعد میری ملاقات ایک مسلم نوجوان سے ہوئی۔ انھوں نے انگریزی سے ایم اے کیا تھا اور محنتی بھی تھے۔ میں نے ان کو مذکورہ صاحب کے پاس بھیجا۔ انھوں نے نوجوان کو مکتوب الیہ کا نام درج کیے بغیر ایک خط لکھ کر دیا جس کا مضمون یہ تھا:

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader