Urdu book · تعمیر حیات

تعمیر حیات

Urdu book, p. 168

By Maulana Wahiduddin Khan

میں ان سے براہ راست واقف نہیں۔ آپ ان کا ٹسٹ لے لیں اور اپنے ٹسٹ میں جیسا پائیں اس کے مطابق ان سے معاملہ کریں۔“ یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ نوجوان نے اس خط کو استعمال نہیں کیا۔ زندگی میں کرنے کی اہمیت ہے، نہ کہ بولنے کی۔ کم بولنا اور زیادہ کرنا، آدمی کو باقیمت بناتا ہے۔ اس کے برعکس، زیادہ بولنا اور کم کرنا آدمی کو بے قیمت بنا دیتا ہے بندوں کی نظر میں بھی اور خدا کی نظر میں بھی۔ شعوری دریافت نہیں ماہر القادری (1906-1978) رسالہ فاران (کراچی) کے ایڈیٹر تھے۔ اسی کے ساتھ وہ مشہور شاعر بھی ہیں۔ ان کا ایک شعر یہ ہے: پہلے ہر شے کو ہم آواز کیا جاتا ہے پھر کہیں نغمہ کا آغاز کیا جاتا ہے یہ شعر زندگی کی ایک اہم حقیقت کو بتا رہا ہے اور وہ یہ کہ ہر اقدام سے پہلے تیاری کی ضرورت ہوتی ہے۔ حالات موافق بنائے بغیر کوئی نتیجہ خیز عمل نہیں کیا جا سکتا۔ اجتماعی زندگی میں کسی واقعے کو ظہور میں لانے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے مختلف اجتماعی عوامل کو اس کے موافق بنایا جائے۔ ماحول کو ”ہم آواز“ بنانے سے پہلے جو نغمہ، چھیڑا جائے وہ عملاً بے معنی شور ہوگا، وہ دلوں کو کھینچنے والا نغمہ نہیں بن سکتا۔ مگر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ماہر القادری کے لیے یہ صرف ایک شاعرانہ نکتہ تھا، وہ ان کی فکری دریافت نہ تھی۔ کیوں کہ ہم دیکھتے ہیں کہ انھوں نے خود اپنی زندگی میں اس کے برعکس عمل کیا۔ پاکستان بننے کے بعد مولانا ابوالاعلیٰ مودودی نے وہاں ضروری معاشرتی حالات پیدا کیے بغیر ”مطالبہ نظامِ اسلامی“ کی ناکام مہم شروع کر دی۔ گویا انھوں نے چیزوں کو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page