Urdu book · تعمیر حیات

تعمیر حیات

Urdu book, p. 169

By Maulana Wahiduddin Khan

ہم آواز کے بغیر نغمہ کا آغاز کر دیا۔ مگر ماہر القادری نے مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کی اس بے فائدہ مہم میں ان کی پوری تائید کی۔ حالاں کہ ان کے مذکورہ شعر کا تقاضا تھا کہ وہ ان پر تنقید کریں۔ بیشتر لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ ’’مشاعرہ‘‘ کی سطح پر اچھی اچھی باتیں کہتے ہیں، مگر وہ حقیقی عمل کی سطح پر ان کو اختیار نہیں کر پاتے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ باتیں ان کی فکری دریافت نہیں ہوتیں۔ وہ موقع کی مناسبت سے ان باتوں کو لفظی طور پر بول دیتے ہیں مگر وہ ان کے فکر کا حصہ نہیں ہوتی۔ وہ ان کی سوچی سمجھی رائے نہیں ہوتی جس سے ہٹنا ان کے لیے ممکن نہ ہو۔ کسی بات کو شعوری فکر کے طور پر پانا ایک چیز ہے، اور تقریر یا تحریر میں لفظی طور پر اس کو بول دینا بالکل دوسری چیز۔ کوئی حقیقت اسی وقت آدمی کے ذہن کا جزء بنتی ہے کہ وہ اس کو شعوری طور پر پائے۔ اور کوئی حقیقت آدمی کے عمل میں صرف اس وقت شامل ہوتی ہے جب کہ اس نے اس حقیقت کو شعوری طور پر پایا ہو۔ ایک کہاوت جاپان کی ایک کہاوت ہے جس کا ترجمہ انگریزی زبان میں اس طرح کیا گیا ہے— ایک خرگوش کا پیچھا کرو، اور تم اس کو پکڑ لو گے ۔ Chase one rabbit, and you will get it اگر آپ بیک وقت دو خرگوش کو پکڑنا چاہیں تو کیا ہوگا۔ ایک خرگوش پورب کی طرف بھاگ رہا ہوگا اور دوسرا خرگوش پچھّم کی طرف۔ آپ کبھی ایک کو پکڑنے کے لیے پورب کی طرف دوڑیں گے اور کبھی دوسرے کو پکڑنے کے لیے پچھّم کی طرف۔ نتیجہ یہ ہوگا کہ دونوں بھاگ کر دور چلے جائیں گے اور آپ دونوں میں سے ایک کو بھی نہ پکڑ سکیں گے۔ اس کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page