Urdu book · تعمیر حیات

تعمیر حیات

Urdu book, p. 17

By Maulana Wahiduddin Khan

برعکس، تاجر کے پاس پورے مہینہ میں جو رقم آتی، اگر وہ اس پوری رقم کو اپنی ذاتی ضرورت میں خرچ کر دے اور ہر مہینہ ایسا ہی کرتا رہے تو اس کی تجارت ختم ہو جائے گی اور وہ دیوالیہ ہو کر رہ جائے گا۔ کیوں کہ تاجر کے پاس جو رقم آتی ہے اس میں بمشکل دس فیصد اس کی اپنی آمدنی ہوتی ہے، بقیہ رقم مارکیٹ کی ہوتی ہے جس کو اسے دوسروں کو لوٹانا ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں ضروری ہے کہ سروس اور تجارت کے فرق کو سمجھا جائے ورنہ آدمی کو سخت نقصان اٹھانا پڑے گا۔ اس اصول کا تعلق زندگی کے اکثر معاملات سے ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ جب بھی کوئی معاملہ پیش آئے تو ظاہری یا جزئی مشابہت کی بنا پر وہ غیر حقیقی رائے قائم کرنے کی غلطی نہ کرے ۔ وہ دو چیزوں کے فرق کو جانے اور اس کے مطابق اپنی رائے قائم کرے۔ جو آدمی اس حکمت کو نہ سمجھے اس کا حال ایک ایسے ڈرائیور کا ہوگا جو خالی سڑک اور بھری سڑک کے فرق کو نہ جانے اور دونوں جگہ یکساں طور پر اپنی گاڑی دوڑانے لگے۔ دسواں نکتہ اس سلسلے کا ایک اہم اصول یہ ہے کہ آدمی اپنے ذہن کو اس طرح تربیت دے کہ وہ گردوپیش کے واقعات سے سبق لے سکے۔ سبق لینے کا مزاج ایک طرف آدمی کے لیے ذہنی ارتقاء کا ذریعہ ہے، اور دوسری طرف وہ اس کو غیر ضروری نقصان سے بچاتا ہے۔ ایک نوجوان نے شہر میں ایک دکان کھولی۔ کچھ دنوں کے بعد اس میں چوری ہو گئی۔ ایک بزرگ نے نوجوان سے اس کی تفصیل پوچھی ، نوجوان نے بتایا کہ مجھ کو تجربہ نہیں تھا، میں نے دکان میں ایک معمولی تالا لگا دیا۔ وہ نہایت آسانی سے کھل سکتا تھا۔ چنانچہ کوئی شخص رات کو آیا اور تالا کھول کر اطمینان کے ساتھ چوری کی اور بھاگ گیا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page