Urdu book · تعمیر حیات

تعمیر حیات

Urdu book, p. 174

By Maulana Wahiduddin Khan

بھی ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ اگر وہ دوسرے کا خیر خواہ نہیں بن سکتا تو اپنی ذات کا خیر خواہ بنے۔ وہ دوسرے کو دینا نہیں چاہتا تو کم از کم اپنے آپ کو محروم نہ کرے ۔ وہ دوسرے کے لیے جینا نہیں چاہتا تو اپنے آپ کے لیے جئے ۔ زندگی کا معاملہ بازار میں تمام چیزیں ضروری قیمت دینے کے بعد ملتی ہیں۔ بازار کا اصول ایک لفظ میں یہ ہے جتنا دینا ، اتنا پانا۔ نہ اس سے کم اور نہ اس سے زیادہ۔ یہی اصول پوری انسانی زندگی کے لیے بھی ہے۔ کسی نے بالکل درست کہا ہے کہ تم دنیا کو اپنا بہترین دو، اور تمہاری طرف بھی دنیا کا بہترین واپس آئے گا: Give the world the best you have, and the best will come back to you. اگر آپ لوگوں کے خیر خواہ ہوں تو لوگ بھی آپ کے خیر خواہ ہوں گے۔ اگر آپ لوگوں سے میٹھا بول بولیں تو لوگوں کی طرف سے بھی آپ کو میٹھے بول کا تحفہ ملے گا۔ آپ لوگوں کے ساتھ محبت کرنے والے بن جائیں گے۔ یہ دنیا لین دین کی دنیا ہے۔ یہاں آدمی وہی پاتا ہے جو اس نے دوسروں کو دیا ہو۔ یہاں دوسرے لوگ کسی آدمی کے لیے وہی کچھ ثابت ہوتے ہیں جو کہ وہ خود دوسروں کے لیے ثابت ہوا ہو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس دنیا میں زندگی گزارنے کے لیے اچھا ماحول پانا آدمی کے اپنے اختیار میں ہے۔ آپ دوسروں کے دوست بن جایئے، اس کے بعد آپ کو بھی دوستوں سے بھرا ہوا ماحول مل جائے گا۔ آپ دوسروں کی ناخوش گوار باتوں کو برداشت کیجیے، اس کے بعد آپ بھی اپنے گردو پیش ایسے پڑوسی پالیں گے جو آپ کی ناخوش گوار باتوں کو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page