تعمیر حیات
Urdu book, p. 175
By Maulana Wahiduddin Khan
برداشت کریں۔ آپ دوسروں کو فائدہ پہنچائیے، اس کے بعد آپ کو بھی زندگی گزارنے کے لیے ایسی دنیا مل جائے گی جہاں ہر ایک آپ کو فائدہ پہنچانے میں مصروف ہوگا۔ اگر آپ پھول بن کر رہنا جانتے ہوں تو آپ خود بخود اپنے رہنے کے لیے پھولوں کی کیاری پالیں گے۔ اور اگر آپ کے وجود کے ساتھ کانٹے لگے ہوئے ہوں تو اس کے بعد آپ کو زندگی گزارنے کے لیے جو دنیا ملے گی وہ صرف کانٹوں کا جھاڑ جھنکاڑ ہوگا۔ یہ انسان علامہ شامی نے لکھا ہے کہ کوئی شخص سیادت نہیں کر سکتا جب تک ایسا نہ ہو کہ اس کے کچھ محبین ہوں جو اس کی مدح کریں اور کچھ حاسدین ہوں جو اس کی مذمت کریں ۔ لا يَسُودُ سَيِّدُ بِدُونِ وُدُودٍ يَمْدَحُ، وَحَسُودٍ يَقْدَحُ ( حاشية ابن عابدين، جلد 1، صفحہ 24)۔ اصل یہ ہے کہ دنیا دار الامتحان ہے۔ اس دنیا میں جو واقعہ ہوتا ہے اس میں امتحان کی مصلحت لازمی طور پر شامل رہتی ہے۔ یہی معاملہ کسی صاحب سیادت شخص کا ابھرنا ہے۔ ایک سچا انسان جب اللہ کی توفیق سے سیادت و قیادت کے میدان میں ابھرتا ہے تو وہ پورے معاشرہ کے لیے امتحان کا ایک پرچہ بن جاتا ہے۔ اب جو لوگ طالب حق ہیں، جن کے اندر سچائی کو پانے کی خواہش موجود ہے۔ جو حق کو سب سے بڑا درجہ دیے ہوئے ہیں، حتیٰ کہ اپنی ذات سے بھی زیادہ۔ وہ پیشگی طور پر نفسیاتی پیچیدگیوں سے آزاد ہوتے ہیں۔ وہ ابھرنے والے قائد کو اپنے دل کی آواز سمجھ کر قبول کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے درمیان وہ محبوب کا درجہ حاصل کر لیتا ہے۔ وہ دل سے اس کا اعتراف کرتے ہیں۔ وہ اس کو دعائیں دیتے ہیں۔ وہ اپنے بہترین الفاظ اور بہترین جذبات اس کے لیے وقف کر دیتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader