تعمیر حیات
Urdu book, p. 176
By Maulana Wahiduddin Khan
اس کے برعکس ، معاملہ ان لوگوں کا ہوتا ہے جو اپنی ذاتی بڑائی میں جی رہے ہوں ۔ جو حق کے طالب نہ ہوں بلکہ اپنی خواہش نفس کے طالب ہوں۔ ایسے لوگ جب کسی کو ابھرتا ہوادیکھتے ہیں تو وہ فوراً حسد میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ وہ محسوس کرنے لگتے ہیں کہ اس شخص کے قد کا بڑھنا گویا میرے قد کا چھوٹا ہونا ہے۔ یہ لوگ حسد کی آگ میں بھڑک اٹھتے ہیں۔ وہ اپنے دائرے سے باہر ابھرنے والے شخص کی مذمت پر کمر بستہ ہو جاتے ہیں۔ وہ اس کے خلاف جھوٹے الزام لگاتے ہیں۔ وہ اس کو نیچا دکھانے کے لیے ہر وہ پست حرکت کرنے پر مچل جاتے ہیں جو ان کے بس میں ہو ۔ ہر صاحبِ سیادت آدمی ایک امتحان ہے۔ اس امتحان میں ایک قسم کے لوگ کامیاب ہوتے ہیں اور دوسری قسم کے لوگ ناکام ۔ دو طریقے اس دنیا میں کامیابی کا واحد راز یہ ہے کہ ممکن سے اپنے عمل کا آغاز کیا جائے ، اور ناکامی کا واحد سب سے بڑا سبب یہ ہے کہ اپنی قوت اور طاقت کو نا ممکن کے حصول میں لگا دیا جائے۔ انسانوں کی کامیابی اور ناکامی کی پوری تاریخ انھیں دو اصولوں کی تفصیل و تشریح ہے۔ اس کو دوسرے لفظوں میں اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ متشددانہ طریقہ کار آدمی کو تباہی کی طرف لے جاتا ہے اور پر امن طریقہ کار کامیابی کی طرف ۔ متشددانہ طریقہ کار ہمیشہ بے صبری کا نتیجہ ہوتا ہے۔ اس کے مقابلے میں پر امن طریقہ کار وہ لوگ اختیار کرتے ہیں جو نزاعی معاملات میں صبروتحمل کا ثبوت دے سکیں۔ امن کی طاقت سب سے بڑی طاقت ہے، اور صبر آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ امن کی طاقت کو کامیاب طور پر استعمال کر سکے ۔ بیشتر لوگوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ کیا ہونا چاہیے ، اور کیا ہو سکتا ہے کے درمیان فرق نہیں کر پاتے۔ وہ اپنی شعوری نا پختگی کی وجہ سے اپنی خواہشوں کے پیچھے دوڑ پڑتے ہیں، اور سمجھتے ہیں کہ وہ منزل کی طرف اپنا سفر طے کر رہے ہیں۔ یہاں تک کہ آخر میں انھیں معلوم ہوتا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader