تعمیر حیات
Urdu book, p. 177
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے کہ انھوں نے صرف وقت ضائع کیا۔ اپنے وقت اور اپنی طاقت کو آخری حد تک استعمال کرنے کے باوجود وہ کچھ بھی حاصل نہ کر سکے۔ انسان پیدائشی طور پر معیار پسند ہوتا ہے ۔ ہر آدمی کے ذہن میں ایک معیاری دنیا کا تصور بسا ہوا ہے مگر دوسری ناگزیر حقیقت یہ ہے کہ اس دار الامتحان میں کسی شخص کے لیے ممکن نہیں کہ وہ اپنی معیاری دنیا کو حاصل کر سکے۔ عملی طور پر ہر چیز ممکن ہے وہ صرف یہ ہے کہ آدمی اپنے پسندیدہ معیار سے کم کو لینے پر راضی ہو جائے ۔ وہ ” کیا ہونا چاہیے “ کو چھوڑ کر ” کیا ہو سکتا ہے “ کو اپنا عملی نشانہ بنائے۔ جب آپ وہ چیز حاصل کرنا چاہیں جو ممکن نہیں ہے تو آپ کے اندر جھنجھلاہٹ اور تشدد پیدا ہوگا لیکن جب آپ ممکن کو حاصل کرنے کے لیے اٹھیں تو آپ کے اندر یقین ہوگا۔ آپ کی جدوجہد پر امن دائرے میں جاری ہوگی ۔ پہلی صورت میں آپ کی پوری سوچ منفی سوچ بن جائے گی، اور دوسری صورت میں آپ کی سوچ مثبت سوچ بنے گی ۔ اعلیٰ انسانی صفات آپ کے اندر پرورش پائیں گی۔ انتقام نہیں انتقام لینے سے پہلے سوچ لو کہ انتقام کا بھی انتقام لیا جائے گا___ یہ زندگی کی ایک اہم حقیقت ہے ، اور جو شخص موجودہ دنیا میں کامیاب زندگی گزارنا چاہتا ہو، اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی زندگی میں اس حقیقت کا پورا لحاظ کرے ۔ ایک شخص سے آپ کو تکلیف پہنچی ۔ آپ کے دل میں اس کے خلاف انتقام کا جذبہ بھڑک اٹھا۔ آپ چاہنے لگے کہ اس سے بدلہ لے کر اپنے سینہ کی آگ ٹھنڈی کریں۔ مگر سوچنے کی بات یہ ہے کہ ایک شخص کے تکلیف دینے سے آپ کے اندر انتقام کا جذبہ پیدا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader