Urdu book · تعمیر حیات

تعمیر حیات

Urdu book, p. 178

By Maulana Wahiduddin Khan

ہو گیا۔ پھر وہی تکلیف جب آپ دوسرے آدمی کو دیں گے تو کیا اس کے اندر دوبارہ وہی انتقامی جذبہ نہیں پیدا ہو جائے گا۔ یقیناً ایسا ہی ہوگا۔ آپ کے انتقام کے بعد وہ بھی انتقام لے گا۔ اس طرح برائی کا ایک چکر چل پڑے گا۔ آپ کو ایک تکلیف کے بعد دوسری تکلیف سہنی پڑے گی۔ اس لیے عقلمندی یہ ہے کہ نظر انداز کرنے کا طریقہ اپنا کر بات کو پہلے ہی مرحلہ میں ختم کر دیا جائے۔ جب آپ کسی سے انتقام لیں تو یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ انتقام لینے کے لیے آپ کو اپنی طاقت خرچ کرنی پڑتی ہے۔ وقت اور پیسہ کی کافی مقدار خرچ کیے بغیر کوئی شخص کسی دوسرے آدمی سے انتقام نہیں لے سکتا۔ اب اگر انتقام لینے والا اپنے انتقام کے منصوبہ میں کامیاب ہو جائے تب بھی یہ اپنا کچھ اور اثاثہ کھونے کی قیمت پر ہوتا ہے۔ انتقام لے کر آدمی آخر میں جو چیز پاتا ہے، وہ صرف ایک نفسیاتی تسکین ہے، اس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔ لیکن اسی وقت اور اس رقم کو اگر کسی مثبت کام (مثلاً کاروبار) میں لگایا جائے تو وہ شکل بدل کر محفوظ رہتا ہے، یہاں تک کہ مزید نفع کے ساتھ آدمی کی طرف لوٹتا ہے، انتقام لینے میں طاقت لگانا طاقت کو کھونا ہے۔ مثبت کام میں طاقت لگانا طاقت کو اضافے کے ساتھ دوبارہ پالینا ہے۔ ایسی حالت میں آدمی کو اپنا اثاثہ پانے کی مد میں خرچ کرنا چاہیے، نہ کہ کھونے کی مد میں۔ حوصلہ مندی سب کچھ کھونے کے بعد بھی اگر آپ کے اندر حوصلہ باقی ہے تو سمجھ لیجیے کہ ابھی آپ نے کچھ نہیں کھویا۔ حوصلہ بلاشبہ سب سے زیادہ قیمتی چیز ہے۔ بلکہ حوصلہ ہی زندگی میں سب کچھ ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page