حوصلہ مندی
Urdu book, p. 179
By Maulana Wahiduddin Khan
آدمی کا اصل سرمایہ اس کا حوصلہ ہے۔ آدمی حوصلہ ہی کی بنیاد پر بڑی بڑی بات سوچتا ہے۔ حوصلہ ہی کے ذریعہ وہ اقدام کرتا ہے۔ حوصلہ ہی کے بل پر وہ جوکھم میں کودتا ہے۔ حوصلہ ہی کے سہارے وہ مشکلات پر قابو پاتا ہے۔ حوصلہ ہی کی مدد سے وہ زندگی کے اتار چڑھاؤ میں ثابت قدم رہتا ہے۔ حوصلہ ہی آدمی کے اندر اعلی کردار پیدا کرتا ہے جو تمام ترقیوں اور کامیابیوں کو پانے کا واحد ذریعہ ہے۔ حوصلہ مند انسان وہ ہے جو سطحی باتوں سے اوپر اٹھ کر سوچ سکے۔ جو ماحول سے غیر متاثر رہ کر اپنی رائے بنائے۔ خطرات جس کا راستہ نہ روکیں اور نقصانات جس کو دل شکستہ نہ کرسکیں۔ جو اپنے آپ میں جینے کی طاقت رکھتا ہو، خواہ تمام لوگ اس کا ساتھ چھوڑ دیں، خواہ اسباب کے نام کی کوئی چیز اس کے پاس باقی نہ رہے۔ بے حوصلگی سب سے بڑی کمزوری ہے اور حوصلہ سب سے بڑی طاقت۔ آدمی اگر بے حوصلہ ہو جائے تو 99 چیز رکھتے ہوئے بھی وہ ایک چیز کھونے کی خاطر اپنا خاتمہ کرلے گا۔ اور اگر وہ اپنے حوصلہ کو باقی رکھ سکے تو وہ 99 چیزیں کھو کر ایک چیز کے بل پر دوبارہ اٹھ کر کھڑا ہو جائے گا۔ بے حوصلہ آدمی مرا ہوا آدمی ہے، اور حوصلہ مند آدمی زندہ آدمی۔ بے حوصلہ آدمی جس چیز کو مشکل سمجھتا ہے، حوصلہ مند آدمی اس کو اپنے لیے زینہ بنا لیتا ہے۔ بے حوصلہ آدمی جہاں ایک عذر لے کر رک جاتا ہے، حوصلہ مند آدمی وہاں سے اپنے لیے آگے بڑھنے کا نیا راستہ پا لیتا ہے۔ بے حوصلہ انسان کی نظر واقعات کے تاریک پہلو پر ہوتی ہے اور حوصلہ مند انسان کی نظر واقعات کے روشن پہلو پر۔ ترقیوں کی تاریخ حوصلہ مند انسانوں کے عمل کی تاریخ کا دوسرا نام ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader