Urdu book · تعمیر حیات

ہار کو ماننا

Urdu book, p. 189

By Maulana Wahiduddin Khan

کے منصوبہ کے تحت تھی۔ تاہم ظاہری طور پر مصر کے بادشاہ نے ان کے لیے بوسٹر (بڑھانے والا) کا رول ادا کیا۔ یہی بات ہر اس شخص کے سلسلے میں نظر آتی ہے جس کو کسی حیثیت سے کوئی نمایاں مقام حاصل ہوا۔ اس حیثیت سے مطالعہ کیا جائے تو ہر آدمی کے پیچھے کوئی بوسٹر دکھائی دے گا۔ انسانی تاریخ میں شاید ہی کوئی شخصیت ہو جس کے آگے بڑھنے میں کسی بوسٹر کا دخل شامل نہ ہو۔ اس معاملے میں بوسٹر کو کسی تعلی کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔ اس کو یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ اس کی وجہ سے فلاں شخص آگے بڑھا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بوسٹر اگر غیر جانبدارانہ طور پر غور کرے تو وہ خود بھی پائے گا کہ اس کی اپنی ذات کے معاملے میں بھی کسی بوسٹر کا ہاتھ کام کر رہا ہے۔ بوسٹر کو سمجھنا چاہیے کہ اس نے جو کچھ کیا وہ اس کا ذاتی کارنامہ نہ تھا بلکہ یہ دراصل خدا تھا جس نے اس کو اپنی ایک منشا کی تکمیل کے لیے استعمال کیا۔ حکیمانہ تدبیر فساد صرف حکیمانہ تدبیروں سے ختم ہوتا ہے، نہ کہ فساد ختم کرو کا مطالبہ کرنے سے۔ یہ اصول بلاشبہ صد فی صد درست ہے۔ اس کے سوا فساد کے مسئلہ کا کوئی حل نہیں۔ دو انسانی گروہ جب ایک ساتھ رہیں گے تو عین فطری قانون کے تحت ایسا ہوگا کہ ان کے درمیان بار بار اختلاف اور نزاع کے مواقع پیش آئیں گے۔ مثلاً ایک کا نعرہ دوسرے کو برا لگے گا۔ ایک گروہ دوسرے گروہ کے عبادت خانہ کا وہ احترام نہ کر سکے گا جیسا کہ وہ گروہ کرتا ہے جس کا وہ عبادت خانہ ہے۔ اس طرح کی مختلف صورتیں ہیں جن میں ایک گروہ کو دوسرے گروہ سے شکایت پیدا ہوگی۔ اس شکایت کا حل جوابی شکایت نہیں ہے۔ اس کا واحد حل یہ ہے کہ اس کو نظر انداز کیا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page