ہار کو ماننا
Urdu book, p. 190
By Maulana Wahiduddin Khan
جائے۔ اختلافی امور میں رواداری اور تحمل کا اصول اختیار کرنا چاہیے، نہ کہ نزاع اور جوابی کارروائی کا۔ ہم فطرت سے لڑ نہیں سکتے۔ اور اختلافی بات پیش آنے پر ردّ عمل کا طریقہ اختیار کرنا گویا فطرت سے لڑنا ہے۔ کیوں کہ اس طرح کے اختلافات عین فطری اسباب کے تحت پیش آتے ہیں۔ ایسی حالت میں فطرت سے مطابقت مسئلہ کا حل ہے، فطرت سے ٹکراؤ کبھی مسئلہ کا حل نہیں بن سکتا۔ ہر مسئلہ کا حل ہے ۔ مگر یہ حل صرف حکیمانہ تدبیر میں ہے۔ اگر ہم ایسا کریں کہ مسئلہ پیش آنے کے بعد ہم جھنجھلاہٹ کا شکار نہ ہوں، بلکہ ٹھنڈے طریقہ سے پوری صورت حال پر غور کریں۔ مسئلہ کو صرف مسئلے کی حیثیت سے دیکھیں، اس کو ساکھ اور وقار کا معاملہ نہ بنائیں تو یقینی ہے کہ ہم ایسی تدبیر دریافت کر لیں گے جس کے ذریعہ اس مسئلے کو آسانی کے ساتھ حل کیا جاسکے۔ جب بھی کوئی مسئلہ پیش آئے تو اپنے آپ کو منفی جذبات کا شکار ہونے سے بچائیے۔ اپنے ذہن کو صرف تدبیر ڈھونڈنے میں لگا دیجیے ۔ اس کے بعد آپ دیکھیں گے کہ مسئلہ اس طرح حل کر لیا گیا ہے جیسے کہ اس کا کوئی وجود ہی نہ تھا۔ مقامِ نفوذ مالی کو ایک پودالگانا تھا۔ اس نے باغ میں ایک گڑھا کھودا۔ اس کی زمین نرم کرنے کے لیے اس نے گڑھے میں ایک بالٹی پانی ڈالا۔ کچھ دیر کے بعد پانی سوکھ چکا تھا۔ دیکھنے پر معلوم ہوا کہ یہاں زمین کے نیچے ایک سوراخ تھا۔ اس سوراخ سے سارا پانی نیچے چلا گیا ۔ یہ فطرت کا اصول ہے جس کو پانی نے عملی طور پر برت کر دکھایا۔ پانی نے ایسا نہیں کیا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader