Urdu book · تعمیر حیات

ہار کو ماننا

Urdu book, p. 191

By Maulana Wahiduddin Khan

کہ وہ گڑھے کی سخت جگہ پر ٹکرا کر وہاں اپنا راستہ بنانے کی کوشش کرے۔ بلکہ اس نے گڑھے کے اندر اپنے لیے ایک مقام نفوذ (penetration point) تلاش کیا۔ اور وہاں سے راستہ بنا کر اندر داخل ہو گیا۔ فطرت کا یہی اصول انسانی زندگی کے لیے بھی ہے۔ انسانی معاشرہ میں جب بھی آپ کو کوئی کام کرنا ہو خواہ وہ مادی معنوں میں کوئی دنیوی کام ہو یا اخروی معنے میں دعوت و تبلیغ کا کام، آپ کو سب سے پہلے اپنے ماحول کا مطالعہ کر کے یہ دیکھنا چاہیے کہ آپ کے لیے مقام نفوذ کیا ہے۔ وہ کون سا نقطہ ہے جہاں پر عمل کر کے آپ باآسانی اپنے لیے ایک گزرگاہ پا سکتے ہیں۔ جہاں سے اپنے عمل کا آغاز کر کے آپ اپنے لیے مستقبل کی وسیع تر راہیں تلاش کر سکتے ہیں۔ انسان جب بھی کوئی منصوبہ بناتا ہے تو اس کا ایک آخری نشانہ ہوتا ہے مثلاً ایک مکان تعمیر کرنا ہو تو اس کا آخری نشانہ اوپر کی چھت ہوگا۔ لیکن آپ اپنے مکان کی تعمیر اوپر کی چھت سے نہیں کر سکتے۔ آپ کو لازمی طور پر اپنے مکان کا آغاز اس کی بنیاد سے کرنا ہوگا۔ یہی معاملہ تمام انسانی کاموں کا ہے۔ ہر کام کا ایک نقطۂ آغاز ہے، اور دوسرا اس کا نقطۂ اختتام۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ دونوں چیزوں کے فرق کو سمجھے۔ وہ اس حقیقت کو جانے کہ ابتدائی مقام سے آغاز کر کے وہ اپنے مطلوب اختتام تک تو پہنچ سکتا ہے۔ لیکن اگر وہ اپنے منصوبے کے اختتامی نقطے سے آغاز کرنا چاہے تو وہ کہیں بھی نہیں پہنچے گا، خواہ وہ عمل کے نام پر صدیوں تک اپنی کوششیں جاری رکھے ۔ یہی اس دنیا کے لیے خدا کا مقرر کیا ہوا قانون ہے۔ عمل کے نقطۂ اختتام کو جاننا جوش ہے۔ اور عمل کے نقطۂ آغاز کو جاننا ہوش۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page