ہار کو ماننا
Urdu book, p. 193
By Maulana Wahiduddin Khan
موجودہ دنیا کے خالق نے ہر معاملے میں پیشگی بچاؤ کے طریقے رکھ دیے ہیں۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ ان طریقوں کو دریافت کرے اور ان کو استعمال کر کے اپنے آپ کو ان کی زد میں آنے سے بچالے۔ قانونِ ہشت اگر آپ ایک چو کور کاغذ کو لیں اور اس کو موڑنا شروع کریں تو آپ صرف آٹھ موڑ تک اس کو موڑ پائیں گے۔ اس کے بعد نواں یا دسواں موڑ آپ کے لیے ناممکن ہو جائے گا۔ یہ اصول ہر حال میں درست ہے خواہ آپ کا کاغذ پوسٹ کارڈ کے برابر ہو یا روزانہ اخبار کے برابر یا کسی بہت بڑے پوسٹر کے برابر۔ ہر حال میں آپ کا موڑ آٹھ پر جاکر رک جائے گا۔ اس کے آگے وہ نہیں بڑھے گا۔ یہ قانونِ ہشت (آٹھ کا قانون) ہے ۔ یہ فطرت کا قائم کردہ ہے ۔ اس میں کوئی تبدیلی ممکن نہیں۔ اسی طرح نہ زندگی کے ہر شعبے میں مانع قوانین موجود ہیں جو کسی کی سرگرمیوں کو ایک حد پر جاکر روک دیتے ہیں۔ کسی بڑے سے بڑے طاقتور کے لیے بھی اس حد بندی کو توڑنا ممکن نہیں۔ اس دنیا میں ایٹم بم صرف ایک بار گرایا جا سکتا ہے، بار بار ایٹم بم گرانا کسی کے لیے ممکن نہیں۔ اس دنیا میں ایک شخص ظالمانہ الفاظ بولنے کے لیے آزاد ہے، مگر اپنے ظالمانہ الفاظ کو واقعہ بنانا اس کے لیے ممکن نہیں۔ کوئی شخص ایک عبادت خانہ کو ڈھاسکتا ہے، مگر یہ ممکن نہیں کہ وہ سارے ہی عبادت خانوں کو ڈھا دے۔ ایک شخص منفی نعرے لگا کر اقتدار تک پہنچ سکتا ہے، مگر کوئی بھی اقتدار اس کے لیے کافی نہیں کہ وہ اپنے نعروں کو تاریخ کا درجہ دے دے۔ فطرت کا یہ اٹل قانون اس دنیا میں ہر انسان کے لیے امن اور تحفظ کی سب سے بڑی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader