ہار کو ماننا
Urdu book, p. 194
By Maulana Wahiduddin Khan
ضمانت ہے۔ جب تک یہ دنیا موجود ہے اس کا یہ قانون بھی لازمی طور پر موجود رہے گا۔ فطرت کا یہ قانون صرف اس وقت ختم ہوگا کہ خود یہ دنیا ہی ختم ہو جائے اور کوئی شخص یہاں باقی ہی نہ رہے۔ جو ظالمانہ الفاظ بول کر لوگوں کو ڈرائے یا مفسدانہ منصوبہ بنا کر لوگوں کے اندر عدم تحفظ کا احساس پیدا کرے۔ فطرت کا یہ ناقابل تغیر قانون اپنی خاموش آواز میں کہہ رہا ہے کہ اے لوگو، تم اپنے آپ کو خود اپنے ظلم سے بچاؤ۔ کیوں کہ تم سے باہر کوئی بھی نہیں جو تم کو اپنے ظلم و فساد کا نشانہ بنا سکے۔ اسی قانون ہشت کو قرآن (22:40 ;2:251) میں قانون دفع کہا گیا ہے۔ یعنی روک کا قانون، جو ہر چیز کو ایک متعین حد پر رہنے کے لیے مجبور کر دے۔ پانی کے ساتھ طوفان ایک شاعر کا قطعہ ہے۔ اپنے ان چند شعروں میں اس نے نہایت سادہ طور پر زندگی کی حقیقت بتا دی ہے۔ وہ قطعہ یہ ہے: کہا کیا اونٹ پر بیٹھوں کہا ہاں اونٹ پر بیٹھو کہا کوہان کا ڈر ہے کہا کوہان تو ہوگا کہا دریا میں کیا اتروں کہا دریا میں ہاں اترو کہا طوفان کا ڈر ہے کہا طوفان تو ہوگا کہا کیا پھول کو توڑوں کہا ہاں پھول کو توڑو کہا پیر خار کا ڈر ہے کہا پیر خار تو ہوگا یہی موجودہ دنیا میں زندگی کی حقیقت ہے۔ یہاں اونٹ ہے تو کوہان بھی ہے۔ یہاں ہموار پیٹھ والا کوئی اونٹ موجود نہیں۔ یہاں دریا میں طوفان کا مسئلہ بھی ہے، یہاں کوئی ایسا دریا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader