تعمیر حیات
Urdu book, p. 195
By Maulana Wahiduddin Khan
نہیں پایا جاتا جس میں سکون ہی سکون ہو تموج نام کی کوئی چیز وہاں موجود نہ ہو۔ اسی طرح یہاں خدا کے اگائے ہوئے باغ میں اگر خوب صورت پھول ہیں تو اسی کے ساتھ نوک دار کانٹے بھی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس دنیا میں جو آدمی کوئی چیز حاصل کرنے کا خواہشمند ہو اس کو پیشگی طور پر یہ جان لینا چاہیے کہ یہاں ترقی کا سفر کبھی ہموار راستوں سے طے نہیں ہوتا۔ یہاں مسائل پر قابو پانے کے بعد ہی کسی آدمی کے لیے کامیابی کے دروازے کھلتے ہیں۔ جو آدمی مسائل و مشکلات کو عبور کرنے کا حوصلہ نہ رکھتا ہو، اس کو خدا کی اس دنیا میں کسی قسم کی کامیابی کی امید بھی نہ رکھنا چاہیے۔ خدا کی دنیا ویسی ہی رہے گی جیسا کہ اس کو بنایا گیا ہے۔ اس کو بدلنا یقینی طور پر ہمارے لیے ممکن نہیں۔ ایسی حالت میں کسی انسان کے لیے یہاں زندگی اور کامیابی کی صرف ایک صورت ہے یہ کہ دنیا میں قائم شدہ نظامِ فطرت سے وہ اپنے آپ کو ہم آہنگ کرلے۔ اس کے سوا ہر دوسری صورت آدمی کی ناکامی میں اضافہ کرنے والی ہے، نہ کہ اس کو کامیابی کی منزل تک پہنچانے والی ہے۔ کامیابی کا موقع کامیابی کا موقع صرف ایک بار کسی شخص کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے۔ اس دنیا میں کامیابی کا موقع روزانہ آتا ہے۔ مگر وہ روزانہ چلا بھی جاتا ہے۔ اور جو موقع ایک بار چلا جائے وہ دوبارہ کسی کے لیے واپس نہیں آتا۔ کامیابی کا بہت گہرا تعلق مواقع سے ہے۔ جب کوئی بڑا موقع سامنے آتا ہے تو وہ بس تھوڑی دیر ٹھہرتا ہے۔ اس لیے ضروری ہوتا ہے کہ موقع آنے کے وقت آدمی فوراً اس کو پہچانے۔ جو شخص کسی موقع کو شروع میں پہچان لے، وہ اس سے سب سے زیادہ فائدہ حاصل

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader