قدرت کا قانون
Urdu book, p. 204
By Maulana Wahiduddin Khan
ہوتا ہے کہ دونوں میں فرق ہو جاتا ہے ۔ یہ فرق فطرت کے قانون کے تحت ہوتا ہے۔ اور اس کے کوئی حقیقی نقصان بھی نہیں۔ چنانچہ مذکورہ مثال میں جس بھائی نے اونچی ترقی کی تھی اس کے لڑکے کھیل تماشے میں پڑ گئے ۔ وہ محنت نہ کر سکے۔ مگر دوسرا بھائی جو بے ترقی رہ گیا تھا اس کی اولاد میں محنت کا جذبہ ابھر آیا۔ ان کے باپ کا پچھڑاپن ان کے لیے مہمیز بن گیا۔ وہ رات دن محنت کرنے لگے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اگلی نسل میں نقشہ بدل گیا۔ ایک بھائی کے بیٹے غفلت میں پڑ کر بے ترقی رہ گئے اور دوسرے بھائی کے بیٹوں نے مستعدی کا ثبوت دے کر اتنی ترقی کی کہ انھوں نے باپ کی محرومی کی بھی تلافی کرلی۔ ایک ہی نسل میں پوری تاریخ بدل گئی۔ ایک بھائی کو حال میں ملا اور دوسرے بھائی کو مستقبل میں۔ اس طرح آخر کار دونوں برابر ہو گئے ۔ یہ اس دنیا کے لیے قدرت کا قانون ہے۔ یہ قانون افراد کے لیے بھی ہے اور قوموں کے لیے بھی۔ تاریخ کے عمل کے دوران اگر کوئی قوم دوسری قوم سے مات کھا جائے تو اس کو مایوس یا جھنجھلاہٹ کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔ کیونکہ جو کچھ ہوا ہے وہ وقتی ہے ، نہ کہ ابدی۔ تاریخ کی گردش دوبارہ اپنا کام کرے گی ۔ اور پھر جلد ہی دنیا دیکھے گی کہ جو آگے تھا وہ پچھلی سیٹ پر چلا گیا اور جو پیچھے تھا اس نے اگلی سیٹ پر اپنے لیے جگہ حاصل کر لی۔ ”تاریخ کی تشکیل قدرت کرتی ہے ، نہ کہ کوئی انسان “ ، کسی کا یہ قول بہت با معنی ہے۔ جب بھی ایک قوم اپنے آپ کو دوسرے کے مقابلے میں دبا ہوا پائے تو اس کو سمجھنا چاہیے کہ جو کچھ ہوا وہ قانون قدرت کے تحت ہوا ، نہ کہ کسی کے ظلم کی بنا پر ہوا۔ اسی لیے اپنی سوچ کا رخ قدرت کے قانون کو جاننے کی طرف موڑ دینا چاہیے ، نہ کہ کسی قوم یا گروہ کے خلاف نفرت اور انتقام میں اس کو ضائع کیا جائے۔ اپنی محرومی کے لیے آپ کسی دوسری قوم یا کسی خارجی مظاہر سے نہ لڑئے بلکہ قدرت کے قانون کو جان کر اس کو اپنے موافق بنانے کی کوشش کیجیے۔ قدرت کے قانون کی زد میں آکر آپ گرے ہیں اور قدرت کے قانون کو اپنے موافق بنا کر دوبارہ آپ کھڑے ہو سکتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader