Urdu book · تعمیر حیات

ٹکراؤ کے بغیر

Urdu book, p. 205

By Maulana Wahiduddin Khan

ٹکراؤ کے بغیر ایک بار میں کشمیر گیا۔ ایک روز ہم لوگ شہر سے نکل کر باہر وادی کے علاقے میں گئے جہاں ایک طرف اونچے نیچے پہاڑ تھے اور دوسری طرف کھلی وادی۔ وہاں بڑی تعداد میں پانی کے چشمے بہہ رہے تھے۔ پہاڑ کے اوپر برف پگھلتی ہے تو اس کا پانی چشموں کی صورت میں بہہ کر میدان میں آتا ہے اور پھر بہتا ہوا جا کر دریا میں مل جاتا ہے۔ میں اپنے ساتھیوں کے ہمراہ ایک چشمہ کی نالی کے کنارے بیٹھ گیا۔ میں نے دیکھا کہ پانی جب بہتا ہوا آگے بڑھتا ہے تو اس کے راستے میں بار بار پتھر کے ٹکڑے آتے ہیں۔ ایسے موقع پر پانی کیا کرتا ہے۔ وہ پتھر کو ہٹانے یا توڑنے کی کوشش نہیں کرتا بلکہ دو شاخ ہو کر پتھر کے دائیں اور بائیں سے گذرتا ہوا آگے بڑھ جاتا ہے۔ میں نے اس واقعے پر غور کیا تو اس میں ایک گہرا سبق چھپا ہوا تھا۔ میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ دیکھیے یہ بہتا ہوا پانی کس طرح اپنا راستہ نکال رہا ہے۔ وہ رکاوٹوں سے لڑتا نہیں بلکہ رکاوٹوں کو اوائڈ کرتے ہوئے اپنا راستہ بنا لیتا ہے۔ یہ فطرت کا پیغام ہے۔ فطرت ان بہتے ہوئے چشموں کے ذریعہ انسان کو یہ پیغام دے رہی ہے کہ اگر تمہارے راستے میں کوئی رکاوٹ آجائے تو اس سے ٹکرانے کی کوشش نہ کرو بلکہ اس کے بازو کی طرف سے اپنا راستہ بنالو۔ تمام دنیا کی سڑکوں پر یہی چشمہ والا اصول رائج ہے۔ ان سڑکوں پر ایک وقت میں بہت سی سواریاں گزرتی ہیں۔ ہر سواری یہ کرتی ہے کہ وہ دوسری سواریوں سے ٹکرائے بغیر دائیں یا بائیں مڑ کر اپنا راستہ بنا لیتی ہے۔ اگر یہ سواریاں اس اصول کو نہ مانیں تو سڑک سڑک نہ رہے بلکہ وہ ایک وسیع قبرستان بن جائے۔ چشمے کا یہ سبق میری زندگی کے لیے ایک انقلابی سبق تھا۔ اس نے مجھ کو زندگی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page