Urdu book · تعمیر حیات

ٹکراؤ کے بغیر

Urdu book, p. 206

By Maulana Wahiduddin Khan

کاراز بتا دیا۔ اس کے بعد میں نے اس طریقہ کو اپنی زندگی میں اپنا لیا اور دوسروں کو بھی اسی کی نصیحت کرنے لگا۔ اس دنیا میں سماجی زندگی کی مثال ایک مصروف سڑک جیسی ہے ہر آدمی سڑک پر اپنی گاڑی دوڑاتے ہوئے اس نصیحت پر عمل کرتا ہے جس کا اعلان بہتے ہوئے چشمہ کے ذریعہ کیا جا رہا ہے۔ اب اتنا اور کرنا ہے کہ اس طریقہ کو زندگی کے بقیہ معاملات میں بھی اختیار کر لیا جائے ۔ کامیاب زندگی اور پر امن سماج بنانے کا یہی واحد طریقہ ہے۔ جب بھی کسی آدمی کے سامنے کوئی رکاوٹ آتی ہے، کوئی دوسرا انسان اس کو اپنے راستے میں حائل دکھائی دیتا ہے تو اس کے ذہن میں پہلا خیال یہ آتا ہے کہ اس رکاوٹ کو یا اس انسان کو اپنے راستے سے ہٹایا جائے۔ وہ سمجھنے لگتا ہے کہ جب تک سامنے کی یہ رکاوٹ دور نہ ہو اس کا سفر جاری ہونے والا نہیں۔ مگر یہ سوچ درست نہیں جس طرح بہتے ہوئے چشمے کے راستے میں ہزاروں پتھر ہوتے ہیں اسی طرح زندگی کے سفر میں بھی ہزاروں کی تعداد میں رکاوٹیں پیش آتی ہیں ۔ اب اگر شرط یہ ہو کہ پہلے ان رکاوٹوں کو دور کرو، اس کے بعد سفر کا آغاز ہوگا، تو ایسی حالت میں سفر کبھی شروع ہونے والا ہی نہیں کیوں کہ ایک کے بعد ایک رکاوٹیں سامنے آئیں گی اور آدمی ہر رکاوٹ سے لڑتا رہے گا یہاں تک کہ اس کا آخری وقت آچکا ہوگا۔ ایسی حالت میں عملی صورت یہ ہے کہ رکاوٹوں کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنا سفر جاری کیا جائے ۔ آدمی جب اس نظر سے دیکھے گا تو اس کو معلوم ہوگا کہ رکاوٹوں کی ایک حد ہے۔ رکاوٹوں کے باوجود چاروں طرف کھلے ہوئے مقامات موجود ہیں۔ آدمی اگر اپنی نگاہ کو رکاوٹوں سے ہٹا کر ادھر ادھر دیکھے تو اپنے قریب ہی وہ ایسا راستہ پالے گا جس سے گزر کر وہ اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہو جائے۔ اس دنیا میں انسان کے لیے جو انتخاب ہے وہ بےٹکراؤ کی زندگی اور ٹکراؤ کی زندگی میں نہیں ہے۔ بلکہ بے ٹکراؤ کی زندگی اور تباہی میں ہے۔ اب ہر انسان کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ دونوں میں سے کس طریقہ کا انتخاب کرتا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page