فطری حفاظت
Urdu book, p. 207
By Maulana Wahiduddin Khan
فطری حفاظت مائک ولڈرچ (Mike Wooldridge) بی بی سی، نئی دہلی کے بیورو چیف ہیں۔ وہ 16 جنوری 1998 کو اپنی ٹی وی ٹیم کے ساتھ ہمارے دفتر میں آئے اور اپنی انگریزی نشریات کے لیے راقم الحروف کا ایک انٹرویو ریکارڈ کیا۔ ان کا ایک سوال یہ تھا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو عام طور پر مسلم مخالف پارٹی سمجھا جاتا ہے۔ ہندوستانی پارلیمنٹ کا بارھواں الیکشن جو فروری 1998 میں ہونے والا ہے اگر اس میں بی جے پی جیت جائے اور مرکز میں حکومت بنا لے تو کیا آپ اس کو مسلمانوں کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔ میں نے جواب دیا کہ ہرگز نہیں۔ کوئی پولیٹیکل پارٹی جو الیکشن جیت کر برسر اقتدار آتی ہے وہ صرف چند سال کے لیے آتی ہے اور اس کا اقتدار کسی بھی حال میں مطلق اقتدار نہیں ہوتا۔ ہمارے یہاں ایک باضابطہ دستور ہے۔ ہر حکومت کو اس دستور کے تحت کام کرنا ہوتا ہے، نہ کہ اس سے آزاد رہ کر۔ انھوں نے کہا کہ ہندوستانی دستور میں حکمراں جماعت کو ایمرجنسی نافذ کرنے کا اختیار دیا گیا ہے، اسی سے فائدہ اٹھا کر اندرا گاندھی نے 1997 ء میں یہاں ایمرجنسی نافذ کر دی تھی، جس کی وجہ سے اندرا گاندھی کو من مانی کارروائی کرنے کا اختیار حاصل ہو گیا۔ اسی طرح اگر بی جے پی حکومت پا کر یہاں ایمرجنسی نافذ کر دے تو خود اسی دستور کے مطابق اس کو لامحدود اختیارات حاصل ہو جائیں گے، اور وہ مسلمانوں کے خلاف جو چاہے گی کر سکے گی۔ میں نے کہا کہ اس قسم کا سنگین واقعہ کبھی قابل اعادہ نہیں ہوتا۔ آپ ایٹم بم صرف ایک بار گرا سکتے ہیں، بار بار ایٹم بم گرانا ممکن نہیں: میں نے کہا کہ اسی اصول پر یقین کی بنا پر میں نے یہ جرات کی تھی کہ 4 دسمبر 1992 کو جب اجودھیا کی بابری مسجد ڈھائی گئی تو میں نے یہ کہا کہ اب اس ملک میں کوئی اور مسجد

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader