Urdu book · تعمیر حیات

فطری حفاظت

Urdu book, p. 208

By Maulana Wahiduddin Khan

ڈھائی نہیں جائے گی۔ لوگ 6 دسمبر 1992 کے حادثہ کو کا ما سمجھ رہے تھے۔ میں نے کہا کہ یہ کا مان نہیں ہے بلکہ یہ فل اسٹاپ ہے۔ اور آپ جانتے ہیں کہ ایسا ہی ہوا۔ ڈھانے والے لوگ اپنے لحاظ سے بہت سی اور مسجدوں کی فہرست بنائے ہوئے تھے، مگر فطرت کے قانون نے ان کی فہرست کو حرف غلط کی طرح مٹا دیا، دوبارہ ان کے لیے ممکن نہ ہو سکا کہ وہ کسی اور مسجد کے ساتھ 6 دسمبر کو دہرائیں۔ 6 دسمبر 1992 کو جب بابری مسجد ڈھائی گئی تو شیو سینا کے لیڈر مسٹر بال ٹھاکرے نے کہا تھا کہ مجھے ان لوگوں پر فخر ہے جنھوں نے بابری مسجد کو ڈہایا۔ مگر اسی مہینہ کے اخبارات میں بال ٹھاکرے کا یہ بیان چھپا ہے کہ بابری مسجد کی جگہ پر نہ مسجد بنائی جائے اور نہ مندر، دونوں فرقوں کو اس سے تنگ مقام پر مسجد اور مندر بنانے کی جگہ دے دی جائے اور جہاں بابری مسجد تھی وہاں ایک قومی یادگار تعمیر کی جائے۔ اس معاملے میں کانگریس نے مسلمانوں سے یہ کہہ کر معافی مانگی ہے کہ اس وقت اگر چہ مرکز میں کانگریس کی حکومت تھی، مگر ہم بابری مسجد کو بچانے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے بھی یہ اعلان کر دیا ہے کہ مندر مسجد کا اشو اب اس کے ایجنڈے میں نہیں، وغیرہ۔ اس دنیا کا نظام اس طرح بنا ہے کہ یہاں کسی بڑی برائی کو مسلسل جاری نہیں رکھا جا سکتا۔ کوئی بڑی برائی یا کوئی سنگین جرم جب کیا جاتا ہے تو فوراً ہی اس کے خلاف مانع اسباب اکٹھا ہونے لگتے ہیں۔ یہاں تک کہ ایسی صورت حال پیدا ہوتی ہے کہ اس برائی یا ظلم کی تکرار ممکن نہیں رہتی۔ اگر کوئی شخص آپ سے کہے کہ میں تمھارے سر پر آسمان گرا دوں گا۔ تو آپ کو کہنے والے سے لڑنا نہیں چاہیے بلکہ یہ سوچ کر چپ رہنا چاہیے کہ آسمان کو گرانا اس کے بس ہی میں نہیں ۔ اسی طرح کوئی پولیٹیکل پارٹی یا لیڈر اگر آپ کی مخالفت میں بڑے بڑے الفاظ بولے تو اس کے خلاف کارروائی کرنے سے پہلے یہ سوچیے کہ ایسا ہونا ممکن ہے یا نہیں ۔ اگر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page