تعمیر حیات
Urdu book, p. 211
By Maulana Wahiduddin Khan
بالواسطہ طریقہ کو دوسرے لفظوں میں حکیمانہ طریقہ کہہ سکتے ہیں، اور اس دنیا میں حکیمانہ طریقہ کے بغیر کوئی بڑی کامیابی حاصل نہیں کی جاسکتی۔ پازیٹیوسوچ سوامی وویکانند (وفات 1903) کے حالات میں نے پڑھے۔ ان کا ایک واقعہ بہت پسند آیا۔ یہ واقعہ صرف ایک واقعہ نہیں بلکہ وہ زندگی کا ایک راز ہے، وہ اس دنیا میں کامیابی کی کنجی ہے۔ سوامی جی کے ایک مسیحی دوست تھے۔ وہ سوامی جی کو بہت مانتے تھے۔ ایک بار انھوں نے سوامی جی کا ٹییسٹ لینا چاہا۔ انھوں نے سوامی جی کو اپنے گھر پر کھانے کے لیے بلایا۔ سوامی جی جب ان کے یہاں پہنچے تو ان کو ایک کمرہ میں بٹھایا گیا۔ اس کمرہ میں ایک میز تھی اس میز کے اوپر بہت سی مذہبی کتابیں ایک کے اوپر ایک رکھی ہوئی تھیں۔ سب سے نیچے گیتا تھی جو ہندو دھرم کی مقدس کتاب ہے اور اس کے اوپر دوسرے مذہبوں کی کتابیں ۔ سوامی جی جب کمرے میں پہنچے تو ان کے میزبان نے کہا کہ سوامی جی اس کو دیکھیے اس پر آپ کا تبصرہ کیا ہے۔ ایک صورت یہ تھی کہ اس کو دیکھ کر سوامی جی بھڑک اٹھیں۔ وہ کہیں کہ میرے مذہب کی کتاب کو سب سے نیچے رکھ کر تم نے میرے مذہب کی بے عزتی کی ہے۔ کیا تم نے مجھے اسی توہین کے لیے بلایا تھا۔ اس کے بعد مہمان اور میزبان دونوں ایک دوسرے سے لڑ جاتے۔ لیکن سوامی جی نے ایسا نہیں کیا۔ وہ کتاب کے منظر کو دیکھ کر مسکرائے اور آہستگی کے ساتھ اپنے میزبان سے کہا فاؤنڈیشن تو بہت اچھی ہے: The foundation is really good.

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader