Urdu book · تعمیر حیات

پازیٹیوسوچ

Urdu book, p. 212

By Maulana Wahiduddin Khan

سوامی وویکانند کا یہ واقعہ بتاتا ہے کہ انھوں نے منفی واقعے کو مثبت واقعے میں ڈھال لیا۔ ایک بات جو بظاہر ناخوشگوار تھی اس کو انھوں نے خوشگوار صورت دے دی۔ یہی موجودہ دنیا میں زندگی کا راز ہے یہاں پھول کے ساتھ کانٹے بھی ہیں۔ یہاں اچھے انسانوں کے ساتھ برے انسان بھی ہیں۔ اس لیے یہاں بار بار آدمی کو کڑوا بول سننا پڑتا ہے۔ یہاں آدمی کو نفرت کا تجربہ پیش آتا ہے۔ دوسروں کی طرف سے اس کو بے عزت کیا جاتا ہے۔ ایسے حالات میں موجودہ دنیا میں کامیابی کا راز صرف یہ ہے کہ آدمی پھول کے ساتھ کانٹوں سے بھی نباہ کرنا جانتا ہو، وہ نفرت کرنے والوں سے بھی محبت کر سکے، وہ اپنے خلاف باتوں میں بھی ایسے پہلو تلاش کر لے جو اس کے لیے موافق اور مفید ہوں۔ میری زندگی کا تجربہ ہے کہ انسان پتھر نہیں ہوتا۔ ہر انسان کے سینہ میں وہی نرم دل ہوتا ہے جو کسی دوسرے انسان کے سینہ میں ہے۔ اس دنیا میں پیدا ہونے والا ہر انسان انسان ہے، کوئی بھی انسان پیدائشی طور پر بھیڑیا نہیں۔ اگر کوئی آدمی کسی وجہ سے کڑوا بول بولے تو آپ اس کے لفظ کو نہ دیکھیے، آپ اس کے سینہ میں چھپے ہوئے نرم دل کو دیکھیے۔ آپ اس کے کڑوے بول کا اثر نہ لیتے ہوئے اس سے میٹھا بول بولیے۔ وہ آپ کو کانٹا دے تو آپ اس کو پھول کا تحفہ پیش کیجیے۔ اس کے بعد آپ دیکھیں گے کہ وہی انسان جو بظاہر آپ کا دشمن دکھائی دے رہا تھا، وہ آپ کا دوست بن جائے گا۔ یہ تجربہ ہے کہ جب آدمی کے ساتھ کوئی پسند کے خلاف بات پیش آئے اور اس کو سن کر وہ غصہ ہو جائے تو اس کا اثر اس کی اپنی سوچ سمجھ بوجھ پر پڑتا ہے۔ اس کی عقل ٹھیک طور پر کام نہیں کر پاتی۔ اس کی وجہ سے وہ دوسروں کی بات کا زیادہ اچھا جواب نہیں دے پاتا۔ اگر آپ غصہ کی بات پر غصہ نہ ہوں تو اس کا سب سے پہلا فائدہ خود آپ کو ملتا ہے۔ آپ کی عقل نارمل رہتی ہے۔ آپ اس پوزیشن میں ہوتے ہیں کہ کسی بات کا زیادہ اچھا جواب دے سکیں۔ جو آدمی غصہ میں بھڑک اٹھے وہ صرف پتھر پھینک سکتا ہے۔ مگر جو آدمی اپنے آپ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page