Urdu book · تعمیر حیات

تعمیر حیات

Urdu book, p. 213

By Maulana Wahiduddin Khan

کو غصہ سے بچائے وہ دلیل کی زبان میں بولے گا، اور دلیل کی زبان پتھر کی زبان سے ہزار گنا زیادہ طاقتور ہے۔ مثبت ذہن کا آدمی اپنے پورے امکانات کے ساتھ جیتا ہے اور منفی ذہن کا آدمی صرف اپنے ادھورے امکانات کے ساتھ۔ نظرانداز کرنا میرے اندر پیدائشی طور پر یہ بات ہے کہ میں ہر ایک کی بات کو غور سے سنتا ہوں اور اس سے سبق لینے کی کوشش کرتا ہوں۔ اس کا یہ فائدہ مجھے ملتا ہے کہ میں ہر ایک سے کچھ نہ کچھ کام کی بات سیکھ لیتا ہوں۔ ہر ایک سے مجھے کوئی ایسی تجربہ کی بات مل جاتی ہے جس میں سب کے لیے فائدہ ہو۔ ایک بار میں ایک گاؤں میں تھا۔ میں نے دیکھا کہ گاؤں کے دو آدمی آپس میں باتیں کر رہے ہیں۔ وہ دونوں ایک دوسرے کے دوست تھے مگر ان میں سے ایک کو دوسرے سے کسی معاملے میں شکایت ہو گئی۔ جس آدمی کو شکایت تھی وہ بار بار اپنی شکایت بیان کرتا تھا۔ دوسرے آدمی نے کافی کوشش کی کہ اس کی شکایت ختم ہو جائے مگر جب اس نے دیکھا کہ شکایت ختم نہیں ہو رہی ہے تو اس نے کہا کہ شکایت والی بات کو بازو میں رکھ دو اور پھر ہم دونوں پہلے کی طرح رہنے لگیں گے۔ یہ بظاہر ایک سادہ سی بات ہے مگر وہ زندگی کا ایک بہت بڑا راز ہے۔ کوئی بھی دو آدمی ایک ڈھنگ کے نہیں ہوتے۔ جس طرح ایک آدمی کے انگوٹھے کا نشان دوسرے آدمیوں کے انگوٹھے کے نشان سے الگ ہوتا ہے اسی طرح ہر آدمی اپنی سوچ، اپنے جذبات اور اپنی پسند اور ناپسند کے لحاظ سے دوسرے تمام لوگوں سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔ اب اس فرق و اختلاف کے ساتھ سماج میں خوشگوار زندگی کیسے گزاری جائے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page