نظرانداز کرنا
Urdu book, p. 214
By Maulana Wahiduddin Khan
اس کا آسان فارمولہ یہ ہے کہ جب کسی سے اختلاف پیدا ہو تو اس کو سمجھانے کی کوشش کی جائے اور اگر سمجھانے کے بعد بھی اختلاف اور شکایت دور نہ ہو تو دونوں اس بات پر راضی ہو جائیں کہ دونوں شکایت والی بات کو بازو میں رکھ دیں گے، وہ ایک دوسرے سے اس پر بحث نہیں کریں گے۔ یہ فارمولہ ہر جگہ کے لیے ہے۔ فیملی کے اندر بھی اور فیملی کے باہر بھی، اپنے لوگوں میں بھی اور اجنبی لوگوں میں بھی۔ اس دنیا میں سکھ کی زندگی بتانے کا اس سے زیادہ آسان فارمولہ اور کوئی نہیں۔ چوں کہ ہر آدمی کی سوچ الگ الگ ہے۔ اس لیے یہ ناممکن ہے کہ آپ دوسروں کو بالکل اپنے خیال کے مطابق بنا سکیں ۔ اختلاف ایک فطری حقیقت ہے۔ وہ کسی حال میں ختم ہونے والا نہیں۔ ایسی حالت میں اگر آپ اختلاف کو مٹانا چاہیں تو اختلاف کبھی مٹنے والا نہیں۔ ایسی کوشش صرف آپ کو مزید پریشانی میں مبتلا کرے گی، وہ کبھی آپ کو سکھ اور چین دینے والی نہیں۔ ایسی حالت میں قابل عمل فارمولہ یہی ہے کہ شکایت والی بات کو بازو میں رکھ دیا جائے۔ اختلاف کے باوجود لوگوں کے ساتھ مل جل کر رہنے کی کوشش کی جائے۔ ہر آدمی سے آپ کو کوئی شکایت ہوتی ہے اس کے ساتھ ہر آدمی میں کچھ ایسی باتیں ہوتی ہیں جو آپ کے لیے قابل شکایت نہ ہوں۔ اب آپ کو یہ کرنا ہے کہ شکایت والی بات کو بے شکایت والی بات سے الگ کر دیں۔ دونوں کو ایک دوسرے سے الگ کرتے ہی آپ محسوس کریں گے کہ دوسرا آدمی اسی طرح آپ کے لیے نارمل آدمی ہے جس طرح بہت سے دوسرے آدمی۔ موجودہ دنیا میں ہر آدمی مل جل کر رہنے پر مجبور ہے۔ تنہائی کی زندگی یہاں قابل عمل نہیں۔ آپ جب بھی دوسروں کے ساتھ مل جل کر رہیں گے یا مل کر کام کریں گے تو لازمی طور پر کوئی نہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader