Urdu book · تعمیر حیات

تعمیر حیات

Urdu book, p. 215

By Maulana Wahiduddin Khan

کوئی شکایت یا اختلاف سامنے آئے گا۔ اس مسئلہ کا حل صرف یہ ہے کہ شکایت والی بات کو بھلا دیا جائے اور بے شکایت والی باتوں کی بنیاد پر لوگوں کے ساتھ زندگی گزاری جائے۔ نظر انداز کرنا کوئی کمزوری کی بات نہیں ۔ یہ زندگی کا ایک اعلیٰ اصول ہے ۔ یہ ہر اس انسان کا طریقہ ہے جو اپنے سامنے کوئی بڑا مقصد رکھتا ہو۔ اس دنیا میں ناخوشگوار یوں کو نظر انداز کرنے والے لوگ ہی آگے بڑھتے ہیں۔ جو لوگ نظر انداز نہ کر سکیں وہ درمیان میں الجھ کر رہ جائیں گے، وہ اپنی منزل تک نہیں پہنچیں گے۔ مشکل نہیں میری زندگی کا ایک بہت بڑا سبق وہ ہے جو مجھ کو قرآن سے ملا۔ اسلام کے شروع کے زمانے میں جب مسلمان بہت تھوڑے تھے اور ان کے مخالفین ان کو بہت زیادہ ستاتے تھے ۔ اس وقت ان کے ذہن میں یہ سوال تھا کہ مشکل کے اس طوفان میں اپنا کام کس طرح کیا جائے ۔ اس وقت قرآن میں ایک آیت اتری جس میں انھیں اس معاملے میں رہنمائی دی گئی ۔ وہ آیت یہ تھی : اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا (94:6) یعنی، مشکل سے نہ گھبراؤ، کیونکہ مشکل کے ساتھ ہی اس دنیا میں آسانی بھی موجود ہے۔ قرآن کی اس آیت میں یہ نہیں کہا گیا کہ مشکل کے بعد آسانی ہے بلکہ یہ فرمایا کہ مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔ یعنی جہاں مشکل ہے وہیں عین اسی وقت آسانی بھی موجود ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس دنیا کو بنانے والے نے اس کو اس طرح بنایا ہے کہ یہاں پر ابلم کے ساتھ اس کا حل بھی موجود ہو۔ جہاں پر ابلم یا کٹھنائی ہو وہیں ایسے مواقع (opportunities) بھی موجود ہوں جن کو استعمال کر کے آدمی آگے بڑھ سکے۔ اس دنیا میں پر ابلم اور حل دو ایسے جڑواں بھائی ہیں جو کبھی ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوتے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page