تعمیر حیات
Urdu book, p. 221
By Maulana Wahiduddin Khan
اس واقعے میں یہ سبق ہے کہ دوسرے کی زمین پر کسی کے لیے اپنی ترقی کا جھنڈا گاڑنا ممکن نہیں۔ دوسرے کی ملکیت کو چھین کر اپنا رقبہ بڑھانے کی اسکیم اس دنیا میں کامیاب نہیں ہو سکتی۔ اس دنیا میں ہر آدمی کو زندہ رہنے اور ترقی کرنے کا حق ہے لیکن کوئی شخص دوسرے کو مٹا کر اپنی ترقی میں اضافہ نہیں کر سکتا۔ واقعات بتاتے ہیں کہ اپنی حد کے اندر رہتے ہوئے جو ترقی حاصل کی جاتی ہے وہ ترقی مستحکم ہوتی ہے اور وہ مسلسل باقی رہتی ہے۔ اس کے برعکس، جو آدمی دوسرے کا حصہ چھین کر اپنے کو ترقی یافتہ بنانا چاہے اس کی ترقی میں استحکام نہ ہوگا۔ ایسا آدمی آخر کار دگنا محرومی سے دوچار ہوتا ہے۔ وہ اپنے حاصل شدہ حصے کو بھی کھو دیتا ہے، اور دوسرے کا حصہ تو اسے ملنے والا ہی نہ تھا۔ کوئی شخص خواہ وہ معمولی حیثیت کا ہو یا وہ سیاسی اقتدار کا مالک ہو، کسی بھی حال میں وہ زندگی کے اس قانون سے مستثنیٰ نہیں۔ کوئی بھی شخص اتنا طاقتور نہیں کہ وہ اس قانون سے بچ جائے، وہ اس قانون کو اپنے اوپر نافذ نہ ہونے دے۔ یہ قانون کسی ایک شخص کے لیے جتنا اٹل ہے اتنا ہی وہ دوسروں کے لیے بھی اٹل ہے۔ اصل مسئلہ مولانا شکیل احمد قاسمی (38 سال) مدرسہ امداد الاسلام، میرٹھ میں صدر مدرس اور شیخ الحدیث ہیں۔ 18 دسمبر 1993 کو دہلی میں ان سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے اپنا ایک تجربہ بتایا جو نہایت سبق آموز ہے۔ انھوں نے کہا کہ نومبر 1992 میں صدر بازار (میرٹھ) کے ایک تعلیم یافتہ ہندو مسٹر اندر جیت سنگھ اہلو والیا ان کے مدرسہ میں آئے۔ انھوں نے کہا کہ میں اپنے دولڑکوں، گورو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader