اصل مسئلہ
Urdu book, p. 222
By Maulana Wahiduddin Khan
ابلووالیا اور چارلی ابلووالیا کو اُردو اور عربی زبان پڑھانا چاہتا ہوں۔ آپ ان کے لیے کسی ٹیویٹر کا انتظام کردیں۔ مولانا قاسمی نے پوچھا کہ آپ ان بچوں کو اُردو، عربی کیوں پڑھانا چاہتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ میرے بچوں میں کھلا ذہن پیدا ہو۔ وہ تنگ نظری سے اوپر اٹھ کر سوچنے والے بنیں۔ واضح ہو کہ مسٹر اندر جیت سنگھ ابلو والیا کا تعلق آرایس ایس سے ہے اور وہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایکٹو ممبر ہیں۔ مولانا شکیل احمد قاسمی نے سوچا کہ اگر میں مدرسہ کے کسی طالب علم کو اس کام پر مقرر کروں تو شاید وہ ٹھیک سے اس کو انجام نہ دے سکے۔ چنانچہ انھوں نے فیصلہ کیا کہ وہ خود ہی اس کام کو کریں گے۔ انھوں نے جب مسٹر ابلو والیا سے یہ بات کہی تو ان کو بہت تعجب ہوا۔ تاہم مولانا قاسمی کے اصرار پر انھوں نے اس کو قبول کر لیا۔ اب انھوں نے پوچھا کہ مولانا صاحب ، ہم کو ماہوار کتنا دینا ہوگا۔ مولانا قاسمی نے کہا کہ کچھ نہیں۔ یہ تو میرے لیے ایک خوشی کا کام ہے۔ میرے لیے یہی قیمت کافی ہے کہ ایک ایسے حلقہ میں جہاں اُردو ختم ہورہی ہے وہاں کچھ لوگ اُردو اور عربی جاننے والے پیدا ہو جائیں گے۔ غرض کچھ دیر کی بحث کے بعد طے ہو گیا کہ مولانا قاسمی ان کے گھر پر جا کر ان کے بچوں کو اُردو پڑھایا کریں گے۔ مولانا شکیل احمد قاسمی نے مولانا اسماعیل میرٹھی کی ریڈر سے ان بچوں کو اُردو پڑھانا شروع کیا۔ یہ سلسلہ یکم دسمبر 1992 کو شروع ہوا اور اب تک وہ بدستور جاری ہے ۔ اس مدت میں ان ہندو بچوں نے کئی ریڈریں ختم کرلی ہیں۔ وہ اب صحیح املا لکھ لیتے ہیں اور اُردو اخبار ( مثلاً قومی آواز) کو آسانی سے پڑھ لیتے ہیں۔ اب انھوں نے منہاج العربیہ کے ذریعے سے عربی پڑھنا شروع کر دیا ہے۔ اس وقت وہ منہاج العربیہ کا دوسرا حصہ پڑھ رہے ہیں۔ ان کے گھر میں اُردو کا اتنا چرچا ہوا کہ اب خود مسٹر اندر جیت سنگھ ابلو والیہ نے بھی مولانا قاسمی سے اُردو پڑھنا شروع کردیا ہے۔ انھوں نے اُردو کتابوں کے علاوہ بازار سے ضخیم فیروز اللغات بھی خرید لی ہے تا کہ اُردو سیکھنے میں وہ ان کے لیے معاون ہوسکے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader