اصل مسئلہ
Urdu book, p. 223
By Maulana Wahiduddin Khan
اس تعلیم کا مزید اثر یہ ہوا ہے کہ اہلووالیا فیملی میں "اردو تہذیب" آنا شروع ہو گئی ہے۔ وہ لوگ گفتگو میں ان شاء اللہ، ماشاء اللہ، خدا حافظ جیسے الفاظ کو استعمال کرنے لگے ہیں۔ مسٹر اہلووالیہ ہر طرح مولانا شکیل احمد قاسمی کی خدمت کرتے رہتے ہیں۔ وہ ہر موقع پر ان کے ساتھ تعاون کے لیے تیار رہتے ہیں۔ مثلاً مسٹر اہلووالیہ ایک ہند و علاقہ میں رہتے ہیں۔ چنانچہ مولانا قاسمی جب ان کے یہاں سے پڑھا کر نکلتے ہیں تو وہ اپنے بچوں کو ان کے ساتھ دور تک بھیجتے ہیں تاکہ لوگ انھیں اجنبی محسوس نہ کریں۔ یہ ایک مثال ہے جو بتاتی ہے کہ موجودہ ہندوستان میں ہمارا مسئلہ کیا ہے۔ موجودہ ہندوستان میں ہمارا مسئلہ "ہند و فرقہ واریت" نہیں ہے، بلکہ اصل مسئلہ ہند و مسلم دوری ہے۔ اگر ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان کسی بھی ذریعہ سے ملنا جلنا شروع ہو جائے تو اس کے بعد تمام مسائل اس طرح ختم ہو جائیں گے جیسے کہ وہ تھے ہی نہیں۔ دوری غلط فہمی پیدا کرتی ہے اور قربت سے دوستی پیدا ہوتی ہے ۔ عام تجربہ ہے کہ جہاں ہندوؤں اور مسلمانوں میں دوری آئی وہاں ساتھ ساتھ غلط فہمیاں بھی آگئیں ۔ اور جہاں میل ملاپ بڑھا وہاں اپنے آپ ایک دوسرے سے اچھے تعلقات قائم ہو گئے۔ 1947ء سے پہلے ہندوستان زرعی دور میں تھا، اس وقت زراعتی زندگی کے تحت فطری طور پر ہندوؤں اور مسلمانوں میں بار بار ملنے کی صورتیں پیدا ہوتی تھیں۔ آزادی کے بعد ہندوستان میں صنعتی دور آگیا۔ صنعتی دور کے تقاضے کے تحت خاندان منتشر ہو گئے ۔ لوگ ادھر اُدھر جانے لگے ۔ اس طرح مشترک زندگی کا نظام ٹوٹ گیا ۔ پچھلے تعلقات باقی نہیں رہے۔ موجودہ زمانے میں دونوں فرقوں میں دوری کا بڑا سبب یہی ہے۔ اس کا حل یہ ہے کہ مسلمان زیادہ سے زیادہ تعلیمی اداروں میں جائیں ۔ جدید اقتصادی اور سماجی سرگرمیوں میں بڑھ کر حصہ لیں۔ نیز اس انداز کے کام بھی کریں جس کی ایک مثال مولانا شکیل احمد قاسمی کا مذکورہ واقعہ ہے۔ اس کے بعد ان شاء اللہ دوبارہ میل ملاپ کا سابقہ دور واپس آجاۓ گا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader