انسان کی طاقت
Urdu book, p. 224
By Maulana Wahiduddin Khan
انسان کی طاقت بمبئی کے ایک 18 سالہ مسیحی نوجوان نے خودکشی کرلی۔ اس کا نام گرین ویل گومس (Greenwell Gomes) تھا۔ اخباری رپورٹ کے مطابق، اس سال اس نے ایچ ایس سی کا امتحان پاس کیا تھا، اب وہ بی کام میں داخلہ لینا چاہتا تھا۔ مگر اس کو بتایا گیا کہ پندرہ ہزار روپیہ 'عطیہ' دیے بغیر اس کا داخلہ نہیں ہوسکتا۔ گومس کے ذہن کو اس سے بہت سخت جھٹکا لگا۔ یہاں تک کہ پریشانی کے عالم میں اس نے خودکشی کرلی (روزنامہ ہندوستان بمبئی، جولائی 1993)۔ دوسری طرف اسی ملک میں ایک اور مثال موجود ہے۔ ایک شخص کو اپنے بیٹے کے علاج کے لیے اچھے اسپتال میں داخلہ نہیں ملا۔ صرف اس لیے کہ اچھے اسپتال کی قیمت ادا کرنے کے لیے اس کی جیب میں پیسے نہیں تھے۔ اس آدمی نے طے کیا کہ میں خود ایک ایسا اسپتال کھولوں گا جو اچھا بھی ہوگا، اور اسی کے ساتھ اس میں داخلہ سے کوئی شخص اس لیے محروم نہیں رہے گا کہ وہ اس کی فیس نہیں ادا کرسکتا تھا۔ وہ اس مہم میں لگ گیا۔ یہاں تک کہ وہ ایسا ایک اسپتال قائم کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ یہ اسپتال آج کامیابی کے ساتھ چل رہا ہے۔ ہزاروں لوگ اس سے معالجاتی فائدہ حاصل کر چکے ہیں۔ اس طرح کے فیصلہ کن مواقع ہر شخص کی زندگی میں آتے ہیں۔ اس وقت اس کا ذہن جس طرف مڑ جائے، بس اسی طرف وہ چلنے لگتا ہے۔ ایسے مواقع پر ضرورت ہوتی ہے کہ آدمی کو ایسا تعمیری رہنما مل جائے جو اس کو منفی سمت میں مڑنے سے بچا سکے۔ جو اس کو وہاں فکری سہارا دے جہاں اس کا اپنا ذہن سوچنے میں عاجز ثابت ہورہا ہے۔ مذکورہ نوجوان کے لیے یہ بھی ممکن تھا کہ وہ اپنی زندگی میں پیش آنے والے تعلیمی واقعے کور رکاوٹ کے بجائے چیلنج سمجھے۔ وہ پندرہ ہزار روپیہ کا عطیہ مانگنے والوں سے کہے کہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader