Urdu book · تعمیر حیات

انسان کی طاقت

Urdu book, p. 225

By Maulana Wahiduddin Khan

اگر تم سمجھتے ہو کہ تم میرا راستہ روک سکتے ہو تو تم بہت بڑی بھول میں مبتلا ہو۔ تم انسان کو انڈراسٹیمیٹ کر رہے ہو۔ ایک انسان کی طاقت اس سے زیادہ ہوتی ہے کہ کوئی اس کی زندگی میں حائل ہو سکے۔ کوئی اس کو آگے بڑھنے سے روک دے۔ اس کے بعد وہ نوجوان یہ طے کرتا کہ میں ایک ایسا تعلیمی ادارہ کھولوں گا جہاں نوجوان طالب علموں کو عطیہ یا رشوت دیے بغیر داخلہ مل سکتا ہو۔ اگر وہ اس قسم کا فیصلہ کر کے اس کو اپنی زندگی کا مشن بنا لیتا اور استقلال کے ساتھ اس مہم میں لگ جاتا تو عین ممکن تھا کہ وہ ایک نیا شاندار تعلیمی ادارہ بنانے میں کامیاب ہو جائے جہاں عطیہ کے بغیر صرف میرٹ کی بنیاد پر داخلہ دیا جاتا ہو۔ اس دنیا میں ناکامی کا سب سے بڑا سبب بے حوصلگی ہے اور کامیابی کا سب سے بڑا راز حوصلہ مندی۔ مذکورہ نوجوان کی خودکشی کا سبب یہ تھا کہ وہ بے ہمت ہو گیا۔ اگر وہ بے ہمت نہ ہوتا۔ اور نئے تعلیمی ادارہ کے قیام کو اپنا مشن بنا لیتا تو وہ دیکھتا کہ اسی دنیا میں بہت سے ایسے لوگ موجود ہیں جو اس کی حمایت کریں، جو اس کے ساتھ ہر قسم کا تعاون کریں۔ پہلے تجربہ میں بظاہر وہ اکیلا ہو گیا تھا، مگر دوسرے تجربہ میں وہ اکیلا نہ رہتا کسی شاعر نے صحیح کہا ہے کہ: سفر ہے شرط مسافر نواز بہتیرے ہزار ہا شجر سایہ دار راہ میں ہیں یہ شعر دہلی میں سب سے پہلے مجھے ایک تاجر نے سنایا تھا۔ وہ ایک تاجر خاندان میں پیدا ہوا مگر بعض اسباب سے اس کے ساتھ یہ المیہ پیش آیا کہ وہ بالکل اکیلا ہو گیا۔ اس کے پاس دہلی میں نہ گھر رہا اور نہ کاروبار۔ یہ حادثہ اس کے ساتھ نو جوانی کی عمر میں پیش آیا۔ اس نے ہمت نہیں ہاری۔ وہ معمولی سامان لے کر فٹ پاتھ پر بیٹھ گیا۔ صبح سے شام تک وہ محنت کرتا۔ اس کے بعد بمشکل چند روپیہ کماتا، مگر ہر قسم کے ناموافق حالات کے باوجود اس نے اپنی محنت جاری رکھی۔ یہاں تک کہ اس کو مددگار ملنے شروع ہو گئے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page