تعمیر حیات
Urdu book, p. 226
By Maulana Wahiduddin Khan
کسی تاجر نے اس کو ادھار مال دینا شروع کیا۔ کسی نے اس کو ایک دکان دلوا دی کسی نے گھر حاصل کرنے میں مدد کی۔ اس طرح وہ ایک کے بعد ایک زندگی کے زینے طے کرتا رہا۔ یہاں تک کہ وہ دہلی کا ایک کامیاب تاجر بن گیا۔ آدمی اگر مستقل مزاجی کے ساتھ ایک راستے کو پکڑلے۔ اور اسی کے ساتھ وہ با اصول اور با کردار بھی ہو تو ایک نہ ایک دن وہ کامیاب ہو کر رہتا ہے۔ کوئی بھی چیز اس کو کامیابی کی منزل تک پہنچنے سے روکنے والی نہیں۔ گھر سے محرومی 28 مارچ 1995 کو دہلی میں ایک بڑا دردناک واقعہ ہوا۔ مسنر اندوواہی (61 سال) نے کستوربا گاندھی مارگ کی بلڈنگ (ایشیا ہاؤس) کی آٹھویں منزل سے کود کر خودکشی کرلی نیچے آتے ہی ان کا پورا جسم کچل اٹھا اور فوراً ہی ان کا انتقال ہوگیا۔ مسنر اندوواہی آل انڈیا ریڈیو کے ہندی شعبے میں چیف نیوز ریڈر تھیں۔ پچھلے سال ان کو وہاں سے ریٹائر منٹ مل گیا۔ ایشیا ہاؤس ایک سرکاری بلڈنگ ہے ۔ اس کی پہلی منزل پر ان کو دو کمروں کا ایک فلیٹ برائے رہائش ملا ہوا تھا۔ ریٹائر منٹ کے بعد اب انھیں یہ فلیٹ خالی کرنا تھا جس میں وہ پچھلے 20 سال سے رہ رہی تھیں۔ فلیٹ چھوڑنے کی آخری تاریخ 31 مارچ تھی۔ ان کے شوہر کا انتقال 1989 میں ہو گیا تھا۔ اب وہ اپنی بیٹی سونیا اور اپنے داماد اشوک کمار کے ساتھ یہاں رہ رہی تھیں (ہندوستان ٹائمس 29 مارچ 1995)۔ ریٹائر منٹ کے بعد اندوواہی بہت پریشان تھیں۔ انھوں نے اگر چہ جمنا پارک کی ریڈیو کالونی میں اپنا ایک گھر بنالیا تھا۔ مگر ان کو یہ خیال پریشان کیے ہوئے تھا کہ موجودہ سرکاری فلیٹ کناٹ پلیس کے علاقے میں ہے اور اس کی وجہ سے انھیں بہت سی سہولتیں حاصل ہیں مگر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader