Urdu book · تعمیر حیات

گھر سے محروی

Urdu book, p. 227

By Maulana Wahiduddin Khan

جمنا پار جانے کے بعد وہ ان شہری سہولتوں سے محروم ہو جائیں گی ۔ یہ احساس ان پر اتنا زیادہ طاری ہوا کہ ایشیا ہاؤس کی آخری منزل پر چڑھ کر انھوں نے خودکشی کی چھلانگ لگادی۔ میں نے اس خبر کو پڑھا تو اچانک میری زبان سے نکلا کہ انسان آج اچھے گھر کو چھوڑ کر معمولی گھر میں جانے کو برداشت نہیں کر پاتا ۔ اس دن انسان کا کیا حال ہو گا جب وہ ہر قسم کے گھر سے محروم کر دیا جائے گا ۔ انسان خودکشی نہ کرے تب بھی اس پر موت آنی ہے ۔ موت کے بعد اچانک وہ محسوس کرے گا کہ اس کا تمام اثاثہ اس سے چھن چکا ہے ۔ اس دن تمام گھر والے بے گھر ہو چکے ہوں گے ۔ اس دن گھر والا صرف وہ ہو گا جس سے خدا خوش ہو اور اپنی طرف سے اس کو ایک گھر عطا کرے ۔ اور اس کو اپنی جنت میں قیام کی اجازت دیدے ۔ صورتحال نے ثابت کیا ہے کہ یہ ضروری نہیں کہ پہلے کوئی انقلاب بر پا کیا جائے تب ہی مذکورہ مقاصد حاصل ہوں گے ۔ میں اپنے زمانے میں موریتانیہ کے اندر پانچ یا چھ انقلابات دیکھ چکا ہوں یہی حال یمن اور سوڈان کا ہے ۔ میں نے حکمرانوں کو بدلتے ہوئے دیکھا ہے ۔ یمن میں الشعی ، سالم البیض ، صالح ، علی عنتر ، عبد الفتاح ، اشمی ، الحمدی ، یہ سب میرے معاصر رہے ہیں ۔ اسی طرح سوڈان میں مثلاً نمیری تھے ان کے بعد صادق المہدی آئے ، پھر عبد الرحمن سوار الذہب اور سوار الفضہ ۔ میرے زمانے میں کئی انقلابات ، حکمرانوں کے قتل اور حکومتوں کی تبدیلی کے واقعات ہوئے مگر وہ سب کے سب بے سود ثابت ہوئے ۔ جس چیز کو بدلنا اور ترقی دینا ممکن ہے وہ ہمارا موجودہ طریق کار ہے تا کہ وہ یورپ کی طرح ہو جائے ۔ یعنی اتحاد کے حصول کے لیے ( بات چیت کے ذریعہ ) ، یقین دہانی کا طریقہ اختیار کیا جائے ۔ اس طریقہ کو استعمال کر کے ہم عرب لیگ کے دستور کو بدل سکتے ہیں اور اپنے درمیان ایک اقتصادی اور دفاعی اتحاد قائم کر سکتے ہیں ۔ ہر شخص جہاں ہے وہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page