Urdu book · تعمیر حیات

تعمیر حیات

Urdu book, p. 228

By Maulana Wahiduddin Khan

وہیں رہے، بادشاہ اپنی جگہ، صدر اپنی جگہ، سلطان اپنی جگہ، کیوں کہ تجربہ سے یہ ثابت ہو چکا ہے کہ اس قسم کی علامتوں کو ہٹانا ہمارے مسئلہ کا حل نہیں۔ جہاں تک جنگ فلسطین کا معاملہ ہے تو اس سلسلے میں جنوبی افریقہ کو دیکھیے جہاں جنگ کے بغیر اسی نوعیت کا مسئلہ حل کر لیا گیا۔ جب کہ اس سے پہلے میرا کہنا تھا کہ سفید فام نسل کو نابود کیے بغیر وہ حل ہونے والا نہیں۔ آزادی فلسطین کے لیے بھی ضروری نہیں کہ ہم جنگ چھیڑیں۔ اگر فلسطینی لوگ اپنی سرزمین میں واپس آجائیں اور ان کی 5 یا 6 ملین تعداد یہودیوں کے ساتھ ایک جمہوری نظام حکومت میں شرکت پر راضی ہوجائے۔ تو بالآخر ان کا مسئلہ مکمل طور پر حل ہو جائے گا۔ معمر قذافی نے لیبیا کے سابق شاہ ادریس کو ملک کی خرابیوں کا اصل سبب سمجھا اور فوجی انقلاب کے ذریعہ 1967 میں ان کا خاتمہ کر دیا۔ مگر انقلاب کے باوجود وہ نتائج حاصل نہ ہو سکے جو اس سے متوقع تھے۔ یہی حال اکثر مسلم ملکوں میں ہوا ہے۔ ہر انقلاب صرف افراد کی تبدیلی کے ہم معنی ثابت ہوا، نہ کہ حالات کی تبدیلی کے ہم معنی۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی حکمراں کو برائی کی علامت قرار دے کر اس کے خلاف مہم چلانا ایک طفلانہ حرکت ہے۔ اس قسم کی تحریکیں اپنے نتیجے کے اعتبار سے صرف تخریبی تحریکیں ہیں، ان کو انقلابی اور اصلاحی تحریک وہی شخص سمجھ سکتا ہے جس کو نہ تاریخ کی خبر ہو اور نہ انسانی نفسیات کی۔ جاننے کی کوشش نو جوانی کی عمر میں، جبکہ ابھی میں پڑھ رہا تھا، ہماری کلاس میں ایک روزاونٹ کا ذکر آیا اس کے بعد استاد نے پوچھا، یہ بتاؤ کہ اونٹ کے سم پھٹے ہوتے ہیں یا جڑے ہوئے ہوتے ہیں۔ یعنی بیل کے سم کی طرح پھٹے ہوئے یا گھوڑے کی سم کی طرح جڑے ہوئے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page