جانے کی کوشش
Urdu book, p. 229
By Maulana Wahiduddin Khan
ہماری کلاس میں اس وقت دو درجئن اسٹوڈنٹ تھے مگر کوئی بھی یقین کے ساتھ اس کا جواب نہ دے سکا۔ محض اٹکل کے تحت کسی نے کہا کہ پھٹے ہوئے ہوتے ہیں کسی نے کہا کہ جڑے ہوئے ہوتے ہیں۔ اس کے بعد استاد نے ایک تقریر کی۔ انھوں نے کہا کہ یہ ایک سادہ سوال تھا مگر تم میں سے کوئی بھی شخص یقین کے ساتھ اس کا جواب نہ دے سکا۔ اس کا سبب کیا ہے ، اس کا سبب یہ ہے کہ تم اونٹ کے سم کے بارے میں نہیں جانتے اور تم اپنے اس نہ جاننے کو بھی نہیں جانتے۔ یہی بات ہے جو عربی زبان کی ایک مثل میں اس طرح کہی گئی ہے : لَا أَدْرِی نِصْفُ الْعِلْمِ (میں نہیں جانتا، یہ کہنا آدھا علم ہے)۔ استاد نے کہا جب میں نے تم لوگوں سے پوچھا کہ اونٹ کے سم پھٹے ہوتے ہیں یا جڑے تو تم میں سے کسی شخص نے بھی یہ نہیں کہا کہ میں نہیں جانتا۔ حالانکہ تجربہ سے معلوم ہوا کہ تم اس سے بے خبر تھے۔ اگر تم اپنے اس نہ جاننے کو جانتے تو تمہارے اندر وہ چیز پیدا ہوجاتی جس کو اسپرٹ آف انکوائری (spirit of enquiry) کہا جاتا ہے۔ اس کے بعد تم کو اس کے بارے میں جاننے کا شوق ہو جاتا۔ جب بھی تمہارے سامنے سے اونٹ گزرتا تو تم فوراً اس کے سم کو دیکھتے اور پھر تم کو یقین کے ساتھ معلوم ہو جاتا کہ اونٹ کے سم کیسے ہوتے ہیں، پھٹے یا جڑے ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ بیشتر لوگ اپنی بے خبری سے واقف نہیں ہوتے یہی وجہ ہے کہ وہ بے خبری کی حالت میں پڑے رہتے ہیں اور کبھی اس سے نکل نہیں پاتے۔ کسی انسان کے لیے اسپرٹ آف انکوائری کی بے حد اہمیت ہے۔ علم کا آغاز اپنی بے خبری کو جاننے ہی سے ہوتا ہے۔ جو آدمی اپنے نہ جاننے کو جانے نہ وہ کوشش کر کے اپنے علم کو بڑھاتا رہتا ہے، وہ ہر چیز کو تجسس کی نظر سے دیکھتا ہے اس کے برعکس جس آدمی کو اپنے نہ جاننے کی خبر نہ ہو وہ بدستور بے خبری کی حالت میں پڑا رہے گا، وہ اپنے نہ جاننے کو جاننا بنانے میں ناکام رہے گا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader