Urdu book · تعمیر حیات

تعمیر حیات

Urdu book, p. 23

By Maulana Wahiduddin Khan

ہر معاملے میں یہاں عملی نقطہ نظر اختیار کیا جائے۔ ایک شخص اپنی ذاتی زندگی میں آئیڈیل کو اپنا نشانہ بنا سکتا ہے، مگر جب اجتماعی زندگی کا معاملہ ہو تو اس کو ہمیشہ پریکٹیکل بن جانا چاہیے۔ دانش مند کون ایک برطانوی مصنف ولیم رالف انگ (William Ralph Inge) کا قول ہے کہ_ دانش مند وہ ہے جو چیزوں کی اضافی قدر کو جانے: The wise man is he who knows the relative value of things. اس قول کا مطلب کیا ہے اس کو مثال سے سمجھیے۔ ایک طالب علم کو امتحان دینا ہے۔ وہ وقت کے مطابق اپنے گھر سے اسکول کے لیے روانہ ہوتا ہے۔ راستہ میں ایک جاہل لڑکا اس سے الجھ جاتا ہے اور اس کو گالی دیتا ہے جس کے نتیجہ میں طالب علم کو غصہ آ جاتا ہے۔ اب طالب علم اگر غصہ ہو جائے اور مذکورہ لڑکے سے انتقام لینے کے لیے اس سے الجھ جائے تو عین ممکن ہے کہ اس جھگڑے میں اتنی زیادہ دیر ہو جائے کہ وہ وقت پر امتحان حال تک نہ پہنچے اور نتیجہ اس کا ایک سال ضائع ہو جائے۔ اسی طرح ایک شخص کو ضروری سفر کرنا ہے۔ وہ گھر سے روانہ ہوتا ہے تا کہ ریلوے اسٹیشن پہنچے اور ٹرین پر سوار ہو کر وقت پر اپنی منزل مقصود تک پہنچ جائے۔ لیکن جب وہ گھر سے نکلا تو راستے میں ایک شخص سے اس کا جھگڑا ہو گیا۔ اب اگر وہ دیر تک اس آدمی سے جھگڑ تا رہے تو عین ممکن ہے کہ اس کو اتنی زیادہ دیر ہو جائے کہ جب وہ ریلوے اسٹیشن پہنچے تو اس کو معلوم ہو کہ اس کی ٹرین چلی گئی۔ ان مثالوں پر غور کیجیے۔ مذکورہ دونوں شخصوں کا ایک مسئلہ وہ تھا جو خود مقام واقعہ پر موجود تھا۔ یعنی ایک شخص کا انھیں گالی دینا یا زیادتی کرنا۔ یہ معاملہ کا وہ پہلو تھا جو براہ راست عین موقع کے وقت دکھائی دے رہا تھا۔ اس کے ساتھ وہاں ایک چھپا ہوا پہلو بھی تھا جو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page