ایک اقتباس
Urdu book, p. 231
By Maulana Wahiduddin Khan
دایان (1981-1915) کا ایک تبصرہ اپنے حریف عربوں کے بارے میں نقل کیا گیا ہے۔ یہ تبصرہ عربی حوالہ میں اس طرح ہے: ”يَمِيْلُ الْعَرَبُ إِلَى خِدَاعِ أَنْفُسِهِمْ وَخِدَاعِ غَيْرِهِمْ، وَهُمْ يَقُوْمُوْنَ بِذٰلِكَ عَنْ غَيْرِ عَمْدٍ، فَهُمْ يَمِيْلُوْنَ دَائِمًا إِلَى التَّحَدُّثِ عَنْ أَمْجَادِ الْأَجْدَادِ، عَنْ صَلَاحِ الدِّيْنِ، عَنْ مَعَارِكِ حِطِّيْنَ وَالْيَرْمُوْكِ، وَبَيْنَمَا يَفْعَلُوْنَ ذَلِكَ فَإِنَّنَا نَبْتَسِمُ لِأَنَّهُمْ يَرَوْنَ أَنْفُسَهُمْ فِي مِرْآةِ أَمْجَادِ الْمَاضِي، أَمَّا نَحْنُ فَنَرَاهُمْ فِي مِرْآةِ الْحَاضِرِ، لَيْتَهُمْ يَسْأَلُوْنَ أَنْفُسَهُمْ لِمَادَا يَتَحَدَّثُوْنَ دَائِمًا عَنْ عُظَمَاءِ مَاضِيْهِمْ وَلَا يَجِدُوْنَ فِي حَاضِرِهِمْ أَحَدًا مِنَ الْعُظَمَاءِ يَتَحَدَّثُوْنَ عَنْهُ؟“ یعنی، عرب اپنے آپ کو بھی دھوکا دینا چاہتے ہیں اور دوسروں کو بھی دھوکا دینا چاہتے ہیں۔ اور ایسا وہ کسی قصد وارادے کے بغیر کرتے ہیں۔ وہ ہمیشہ اپنے اجداد کی بڑائی کا چرچا کرتے ہیں صلاح الدین کا اور حطین اور یرموک کے معرکوں کا۔ اور جب وہ ایسا کرتے ہیں تو ہم ان پر ہنس پڑتے ہیں۔ کیوں کہ وہ اپنے آپ کو ماضی کی بڑائی کے آئینہ میں دیکھتے ہیں اور ہم ان کو حال کے آئینہ میں دیکھتے ہیں۔ کاش وہ اپنے آپ سے پوچھتے کہ کیوں وہ ہمیشہ اپنے ماضی کے بڑوں کی بات کرتے ہیں۔ وہ اپنے حال میں کوئی بڑا نہیں پاتے جس کی وہ بات کریں (صفحہ 3)۔ یہ معاملہ صرف عربوں کا نہیں، بلکہ ساری دنیا کے مسلمانوں کا یہی حال ہے۔ آج ہر جگہ کے مسلمان اپنے گزرے ہوئے بڑوں کے تذکرہ پر جی رہے ہیں۔ حالانکہ گزرے ہوئے سورماؤں کے تذکرہ میں جینا اپنے لیے افیون ہے اور اغیار کے لیے مضحکہ کا ایک سامان۔ صحیح اور مفید بات یہ ہے کہ خود اپنا احتساب کیا جائے۔ اپنی کمزوریوں اور کوتاہیوں کو معلوم کر کے ان کو دور کرنے کی کوشش کی جائے۔ پچھلے بڑوں کا چرچا کر کے خوش ہونا آدمی کو صرف جھوٹے بھرم میں مبتلا کرتا ہے۔ یہ صرف وقت کا ضیاع ہے، نہ کہ وقت کا کوئی استعمال۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader